کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 280
"فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةِ فِي أَرْبَعِينَ ا بنۃ لَبُونٍ " "چرنے والے ہر چالیس اونٹوں میں دوسال کی اونٹنی ہے۔"[1] اس روایت کی روشنی میں جن جانوروں کو پورا سال یا سال کااکثر حصہ چارہ خرید کر یا مختلف جگہوں سے گھاس پھوس وغیرہ جمع کرکے ڈالی جائے ان جانوروں میں زکاۃ نہیں۔ اونٹوں میں زکاۃ کی تفصیل جب اونٹوں میں مذکورہ شرائط پائی جائیں تو ان میں زکاۃ کی تفصیل درج ذیل ہے: 1۔ پانچ اونٹوں میں زکاۃ ایک بکری ہے۔دس میں دو،پندرہ میں تین اور بیس اونٹوں میں چار بکریاں زکاۃ ہے۔جیسا کہ سنت و اجماع سے اس کی وضاحت ہوتی ہے۔ 2۔ جب اونٹوں کی تعداد پچیس ہوجائے تو اس میں ایسی اونٹنی بطور زکاۃ ادا کی جائے جو مکمل ایک سال کی ہو اور دوسرے سال میں داخل ہوچکی ہو،اگر اونٹوں میں ایسی اونٹنی نہ ہوتو ایسااونٹ کافی ہوگا جودوسال کا ہو اورتیسرے سال میں داخل ہوچکاہو۔ 3۔ جب چھتیس اونٹ ہوجائیں تو ان میں زکاۃ ایسی اونٹنی ہے جو دوسال کی ہواور تیسرے میں داخل ہوچکی ہو۔اس پر اہل علم کااجماع ہے،پینتالیس اونٹوں تک یہی زکاۃ ہے۔ 4۔ جب چھیالیس(سے لے کر ساٹھ) اونٹ ہوجائیں تو اس میں تین سال کی اونٹنی بطور زکاۃدی جائے جو سواری اور بوجھ اٹھانے کے قابل ہو۔ 5۔ جب اکسٹھ اونٹ ہوجائیں تو ان میں چار سال کی اونٹنی بطور زکاۃ دی جائے۔جس کے دودھ کے دانت گرچکے ہوں اور مکمل جوان ہو،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کایہی ارشاد ہے۔پچھتر اونٹوں تک یہی زکاۃ ہے۔ 6۔ جب اونٹوں کی تعداد چھہتر سے لے کرنوے تک ہوتو صحیح حدیث کے مطابق اس میں دوسال کی دو اونٹنیاں زکاۃ ہے۔ 7۔ جب اکیانوے سے لے کر ایک سو بیس تک اونٹ ہوں تو ان میں دو جوان اونٹنیاں زکاۃ ہیں جو عمر کے تین سال مکمل کرکے چوتھے سال میں داخل ہوچکی ہوں۔ 8۔ جب ایک سو بیس سے ایک بھی زیادہ ہوتو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خط کے مطابق اس میں دو سال کی تین اونٹنیاں زکاۃ ہے۔ 9۔ پھرہرپچاس اونٹوں میں تین سال کی اونٹنی اور ہرچالیس میں دوسال کی اونٹنی بطور زکاۃ فرض ہے۔[2] [1] ۔سنن ابی داود ،الزکاۃ فی زکاۃ السائمۃ، حدیث 1575 وسنن النسائی،الزکاۃ، باب سقوط الزکاۃ عن الابل اذا کانت رسلا لاھلھا ولحمولتھم ،حدیث 2451ومسند احمد 5/2۔4۔ [2] ۔دیکھئے صحیح البخاری، الزکاۃ ،باب زکاۃ الغنم، حدیث 1454 وسنن ابی داود، الزکاۃ ،باب فی زکاۃالسائمۃ، حدیث 1568۔