کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 278
اس روایت میں وجوب زکاۃ کے لیے اسلام کو شرط قراردیا ہے۔(واللہ اعلم) 3۔ نصاب کا مکمل ہونا:زکاۃ کی فرضیت کے لیے نصاب کا مکمل ہونا ضروری ہے،اگر مقررہ نصاب سے مال کم ہے تو اس میں زکاۃ فرض نہیں۔صاحب نصاب بالغ ہو یانابالغ،عاقل ہویامجنون ہرایک پر زکاۃ فرض ہے کیونکہ دلائل شرعیہ میں عموم ہے جن کا اطلاق ان تمام مذکورہ افراد پر ہوتاہے۔ 4۔ ذاتی ملکیت کاہونا:اگر کسی شخص کے پاس مال ہے لیکن اس پر اس کی ذاتی ملکیت نہیں بلکہ کوئی دوسرا شخص اس کا مالک ہے تو جس شخص کے پاس ہے اس پر زکاۃ فرض نہیں،مثلاً:اگر کسی غلام سے آقا کا معاہدہ ہوجائے کہ وہ ایک مقررہ رقم ادا کرے تو آزاد ہوجائےگا۔پھرجب غلام کے پاس اتنی رقم جمع ہوجائے تو وہ بظاہر اس کا مالک تو ہے لیکن اصل میں وہ رقم آقا کی ہے جووقتی طور پر اس کے پاس ہے۔ 5۔ مال پر ایک سال کا گزرنا:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے ،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لَا زَكَاةَ فِي مَالٍ حَتَّى يَحُولَ عَلَيْهِ الْحَوْلُ" "مال میں زکاۃ تب ہے،جب اس پر ایک سال گزرجائے۔"[1] واضح رہے ایک سال گزرنے کی شرط اس مال پر ہے جو زمین کی پیداوار سے نہ ہو،مثلاً:نقدی،مویشی یامال تجارت وغیرہ، ان میں حولان حول ضروری ہے تاکہ وہ خوب بڑھ جائے۔اس میں مالک کافائدہ ملحوظ رکھا گیا ہے،اگر وہ زمین کی پیداوار ہے تو اس میں ایک سال گزرنے کی شرط نہیں بلکہ اس مال(اناج وغیرہ) کےہاتھ میں آجانے ہی پر زکاۃ فرض ہوجائے گی۔ (7)۔مقرر ہ نصاب کو پہنچے ہوئے مویشیوں کے پیدا ہونے والے بچوں یا مقررہ نصاب کو پہنچے ہوئے مال تجارت سے حاصل ہونے والے منافع کےلیے الگ ایک سال کا گزرنا شرط نہیں دوران سال میں حاصل ہونے والی آمدن کی بھی اصل نصاب کے ساتھ ملا کر زکاۃ ادا کردی جائے،البتہ اگراصل مال مقررہ نصاب کی حد تک نہ پہنچے تو جب نصاب مکمل ہوجائے تب سے ایک سال کی مدت شمار کی جائے۔ (8)۔اگر کسی نے کسی تنگدست سے قرض لینا ہو اور وہ مال مل نہیں رہا تو صحیح رائے کے مطابق جب اس کی رقم ملے گی تب وہ ایک سال کی زکاۃ دےگا(چاہے کئی سال گزرجائیں)۔اگروہ مقروض مال دار ہو اور ٹال مٹول کررہا ہے تو [1] ۔سنن ابن ماجہ، الزکاۃ ،باب من استفاد مالا،حدیث 1792۔وروی الترمذی ،معناہ الزکاۃ ،باب ماجاء لا زکاۃ علی المال المستفاد حتی یحول علیہ الحول ،حدیث 631۔