کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 276
ہے اور جو شخص اپنے مال کی زکاۃ نہیں دیتا اس سے جنگ ہوتی حتیٰ کہ وہ مکمل زکاۃ ادا کردے۔ (2)۔زکاۃ سن 2ہجری میں فرض ہوئی۔تب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ وصول کرنے اورمستحقین تک پہنچانے کے لیے کچھ افراد کو روانہ فرمایا۔آپ کے بعد خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم اور مسلمان حکمرانوں کا یہی طر یقہ رہا۔ (3)۔زکاۃ کی ادائیگی مخلوقات کے ساتھ حسن سلوک اور نیکی کاکام ہے،مال کو میل کچیل سے پاک کرنے کا ذریعہ ہے اور اسے آفات سے بچانے کا سبب ہے۔زکاۃ رب تعالیٰ کی اطاعت اور عبودیت کی ایک شکل ہے۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا وَصَلِّ عَلَيْهِمْ ۖ إِنَّ صَلَاتَكَ سَكَنٌ لَّهُمْ ۗ وَاللّٰهُ سَمِيعٌ عَلِيمٌ" "(اے نبی !)آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ لے لیجئے، جس کے ذریعہ سے آپ ان کو پاک صاف کردیں اور ان کے لیے دعا کیجیے، بلاشبہ آپ کی دعا ان کے لیے موجب اطمینان ہے اور اللہ تعالیٰ خوب سنتا ہے خوب جانتا ہے"[1] الغرض زکاۃ کی ادائیگی سے انسانی نفوس کنجوسی وبخل سے پاک وصاف ہوجاتے ہیں،نیز محبوب مال میں سے زکاۃ ادا کرکے مالدار شخص اللہ تعالیٰ کی طرف سے امتحان میں سرخروہوجاتاہے۔ (4)۔اللہ تعالیٰ نے ان اموال میں زکاۃ فرض کی ہے جن میں مخلوق کا فائدہ زیادہ دے زیادہ ہو اور جو زیادہ بڑھنے والے اور نفع مند ہیں،مثلاً:جانوروں کے ریوڑ اور کھیت وغیرہ خود بخود بڑھتے ہیں۔سونا چاندی اور مال تجارت تصرف،یعنی لین دین کرنے سے بڑھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے زکاۃ کی شرح ہرمال میں اس قدر متعین فرمائی ہے جس قدر اس کے حصول میں محنت ومشقت اٹھائی جاتی ہے۔دور جاہلیت کےدفن شدہ مال کے دستیاب ہونے کی صورت میں پانچواں حصہ زکاۃ ہے۔اگر ایک جانب سے مشقت ہوتو اس میں دسواں حصہ زکاۃ(عشر) ہے،مثلاً:وہ کھیت جنھیں پانی دینے کی مشقت برداشت نہ کرنا پڑے بلکہ پانی کی ضرورت بارش اور چشموں سے پوری ہوجائے۔اور جس زمین میں دو گنا محنت ومشقت ہو،یعنی اسے رہٹ وغیرہ کے ذریعے سے پانی دینا پڑے اس میں بیسواں حصہ زکاۃ ہے۔اور جس مال کے حصوں میں بہت زیادہ محنت کرنا پڑے،اس میں چالیسواں حصہ ہے،مثلاً:کرنسی یا مال تجارت وغیرہ۔ (5)۔زکاۃ کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس کی ادائیگی سے قلب ومال پاک ہوجاتا ہے۔زکاۃ کوئی تاوان یا ٹیکس نہیں کہ جس [1] ۔التوبۃ 9/103۔