کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 275
زکاۃ کی فرضیت اور اہمیت جان لیجیے !زکاۃ کے احکام اور اس کی شرائط ،زکاۃ ادا کرنے والے اور اس کےمستحقین ،اموال زکاۃ اور ان کے نصاب،ان تمام امور کے بارے میں واقفیت نہایت ضروری ہے۔ (1)۔زکاۃدین اسلام کا ایک رکن اور اس کی اساس ہے،جیسا کہ کتاب وسنت کے دلائل سے واضح ہوتا ہے ۔اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں تقریباً بیاسی(82) مقامات پر زکاۃ کونماز کےساتھ ملاکر بیان فرمایا ہے،جس سے زکاۃ کی عظمت اور اس کا نماز سے گہرا تعلق اور ربط عیاں ہوتا ہے۔بنا بریں خلیفہ اول سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: "وَاللّٰهِ! لَأُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ الصَّلَاةِ، وَالزَّكَاةِ" "اللہ کی قسم!میں ہراس شخص کے ساتھ لڑائی کروں گا جو نماز اور زکاۃ میں فرق کرے گا۔"[1] اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ""اورتم نمازوں کو قائم کرو اورزکاۃ دو۔"[2] اورارشادربانی ہے: "فَإِن تَابُوا وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ فَخَلُّوا سَبِيلَهُمْ" "ہاں اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز کے پابند ہوجائیں اور زکاۃ اداکرنے لگیں توتم ان کی راہیں چھوڑدو۔"[3] اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ: شَهَادَةِ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللّٰهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰهِ وَإِقَامِ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءِ الزَّكَاةِ وَالْحَجِّ وَصَوْمِ رَمَضَانَ" "اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے:1۔لالاالٰہ الااللہ محمد رسول اللہ کی گواہی دینا۔2۔نماز قائم کرنا ۔3۔زکاۃ دینا۔4۔حج کرنا۔5۔رمضان کے روزے رکھنا۔"[4] مسلمانوں کا اس امر پر ا جماع ہے کہ زکاۃ فرض ہے اور یہ اسلام کا تیسرا رکن ہے۔اس کےوجوب کامنکر کافر [1] ۔صحیح البخاری، الزکاۃ، باب وجوب الزکاۃ، حدیث 1400۔ [2] ۔البقرۃ2/43۔ [3] ۔التوبۃ 9/5۔ [4] ۔صحیح البخاری، الایمان، باب دعاؤکم ایمانکم۔۔۔حدیث 8۔وصحیح مسلم ،الایمان، باب بیان ارکان الاسلام ودعائمہ العظام ،حدیث 16۔