کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 268
میت کو قبر میں دائیں پہلو پر لٹا یا جائے کہ اس کے چہرے کا رخ جانب قبلہ ہو کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کعبہ کے بارے میں فرمایاہے: "قِبْلَتكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا" ’’تم زندہ ہو یا مردہ دونوں حالتوں میں کعبہ تمہارا قبلہ ہے۔‘‘[1] قبر میں میت کے سر کے نیچے اینٹ یا پتھر رکھ دیا جائے یا مٹی کا ڈھیر لگا کر اس کا سراونچا کر دیا جائے، نیز چہرے کے سامنے والی دیوار کے قریب کیا جائے۔اس کی کمر اور پشت کے پیچھے سہارے کے طور پر مٹی ڈالی جائے تاکہ اس کا بدن الٹ کر چہر ہ یا پشت کے بل نہ ہو جائے۔ پھر لحد کو مٹی اور کچی اینٹوں سے مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔پھر اس پر وہی مٹی ڈال دی جائے گی جو قبر کھودتے وقت نکلی تھی اس کے علاوہ مزید مٹی نہ ڈالی جائے۔ قبر کو ایک بالشت اونچا کیا جائے جو اونٹ کی کوہان کی طرح ہوتا کہ بارش سیلاب وغیرہ کا پانی اس پر ٹھہر نہ سکے نیز اس پر کنکریاں ڈال دی جائیں اور اس پر پانی کا چھڑکاؤ کیا جائے تاکہ مٹی جم جائے اور ہوایا آندھی سے بکھر نہ سکے۔ قبر کو ایک بالشت اونچا کرنے کا مقصد اور حکمت یہ ہے کہ گزرنے والوں کو قبر دکھائی دے تاکہ لوگ اسے پامال نہ کریں بلکہ قبر کی نشاندہی اور حد بندی کو واضح کرنے کی غرض سے اس کے ارد گرد پتھر رکھنے میں کوئی حرج نہیں ،البتہ اس پر کسی قسم کی تحریر منع ہے۔ جب مسلمان کسی میت کو دفن کر کے فارغ ہوں تو مستحب یہ ہے کہ اس کی قبر پر کھڑے ہو کر اس کے لیے دعا واستغفار کریں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی مسلمان کو دفن کر کے فارغ ہوتے تو وہاں ٹھہر جاتے اور فرماتے: "اسْتَغْفِرُوا لأَخِيكُمْ وَاسْأَلُوا لَهُ بالتَّثْبِيت فَإِنَّهُ الآنَ يُسْأَلُ" "اپنے بھائی کے لیے دعا اور استغفار کرو اور اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کا سوال کرو کیونکہ اب اس سے سوالات کیے جائیں گے۔"[2] قبر پر قرآن مجید کی تلاوت کرنا نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہے اورنہ آپ کے صحابہ رضی اللہ عنہم نے ایسا کیا تھا ،لہٰذا یہ کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے( اور گمراہی کا نیتجہ جہنم کی آگ ہے۔) [1] ۔سنن ابی داؤد، الوصایا ،باب ماجاء فی التشدید فی اکل مال الیتیم ،حدیث 2875۔ [2] سنن ابی داؤد، الجنائز، باب الاستغفار عند القبر للمیت فی وقت الانصراف ،حدیث3221۔