کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 264
پڑھے۔ پھر تیسری تکبیر کہہ کر میت کے لیے ماثورہ(مسنون )دعائیں پڑھے۔ نماز جنازہ کی چند ایک دعائیں درج ذیل ہیں: "اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِحَيِّنَا وَمَيِّتِنَا وَشَاهِدِنَا وَغَائِبِنَا وَصَغِيرِنَا وَكَبِيرِنَا وَذَكَرِنَا وَأُنْثَانَا ، اللّٰهُمَّ مَنْ أَحْيَيْتَهُ مِنَّا فَأَحْيِهِ عَلَى الْإِسْلَامِ ، وَمَنْ تَوَفَّيْتَهُ مِنَّا فَتَوَفَّهُ عَلَى الْإِيمَانِ ، اللّٰهُمَّ لَا تَحْرِمْنَا أَجْرَهُ ، وَلَا تُضِلَّنَا بَعْدَهُ" "اے اللہ !ہمارے زندوں کو، مردوں کو، حاضرین کو، غیر حاضرین کو، بچوں کو، بڑوں کو، مردوں کو، اور عورتوں کو بخش دے(تو ہمارے مقام اور ٹھکانے کو جانتا ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے)اے اللہ! ہم میں سے جسے تو زندہ رکھے اسے اسلام پر زندہ رکھنا اور جسے موت دے اسے ایمان پر موت دینا۔ اے اللہ! ہمیں اس کے اجر سے محروم نہ کرنا اور نہ اس کے بعد ہمیں گمراہ کرنا۔"[1] دوسری دعا: "اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ ، وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ ، وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ ، وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ ، وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ ، وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ ، وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ ، وَزَوْجًا خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ ، وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ ، وَاعذه من عَذَاب الْقَبْرِ وَ من عَذَاب النَّارِ" "اے اللہ!اس(میت) کو بخش دے، اس پر رحم فرما ،اسے(عذاب اور سزا سے) عافیت میں رکھ، اسے معاف کردے، اس کی اچھی مہمانی فرما۔ اس کی قبر کشادہ کر، اسے پانی برف اور اولوں سے دھودے ،اس کے گناہ اور خطائیں دھو کر ایسے صاف کردے جس طرح سفید کپڑا دھو کر میل کچیل سے صاف کیا جاتا ہے۔اسے اس کے گھر سے بہتر گھر عطا کر، اس جوڑے سے بہتر جوڑا دے، اسے جنت میں داخل کر، اسے قبر اور آگ کے عذاب سے محفوظ رکھ۔"[2] یہ کلمات بھی پڑھےجا سکتے ہیں: "وَافْسحْ لَهُ في قَبْرِهِ ، وَنَوِّرْ لَهُ فيه" [1] ۔سنن ابی داؤد، الجنائز ،باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ، حدیث3201۔وجامع الترمذی حدیث1024۔وسنن النسائی حدیث:1988 وسنن ابن ماجہ الجنائز، باب ماجاء فی الدعاء فی الصلاۃ علی الجنازة،حدیث1498۔واللفظ لہ [2] ۔صحیح مسلم، الجنائز ،باب الدعاء للمیت فی الصلاۃ، حدیث963۔