کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 262
کفن پہنانے کے احکام میت کو غسل دینے اور اس کے بدن کو خشک کرنے کے بعد میت کو کفن پہنایا جائے۔ میت کو ایسے کپڑوں میں کفن دیا جائے جو اس کے سارے بدن کو اچھی طرح ڈھانپ لیں۔ صاف ستھرے ہوں۔ نئے اور سفید کپڑے مستحب ہیں۔ البتہ دھلے ہوئے ہوں تو بھی درست ہیں۔ ایک کپڑے میں کفن دینا واجب ہے جو میت کے پورے بدن کو اچھی طرح ڈھانپ لے جب کہ مرد کے لیے تین اور عورت کے لیے پانچ کپڑے مستحب ہیں جس میں تہہ بند، سر کی اوڑھنی ،قمیص اور دوبڑی چادریں ہوں گی۔ کفن کے کپڑوں پر عرق گلاب چھڑکنے کے بعد خوشبو(لوبان وغیرہ) کی دھونی دینا مستحب ہے تاکہ اس دھونی کا اثر باقی رہے۔[1] میت کو کفن پہنانے کا طریقہ یہ ہے کہ تین چادریں لے کر انھیں ایک دوسری کے اوپر بچھا دیا جائے۔ پھر میت کو اس طرح لایا جائے کہ اس کا ضروری ستر ڈھانپا ہوا ہواور اسے چادروں کے اوپر چت لٹا دیا جائے۔ پھر میت کے نیچے بچھی ہوئیں چادروں میں سے سب سے اوپر والی چادر کا بایاں کنارہ میت کے بدن پر یوں ڈال دیا جائے کہ میت کی داہنی جانب چھپ جائے۔پھر اسی چادر کا داہنی جانب کا کنارہ پکڑ کر میت کی بائیں جانب پر ڈال دیا جائے۔ پھر اسی طرح دوسری، پھر تیسری چادر سے میت کو چھپا دیا جائے۔ یادرہے چادر کا زائد حصہ قدموں کی نسبت سر کی جانب زیادہ ہونا چاہیے جو اس کے چہرے پر ڈال دیا جائے۔ پاؤں کی جانب چادر کا جوزائد حصہ ہو وہ اس کے قدموں پر ڈال دیا جائے ،پھر ان چادروں کو احتیاط سے باندھ دیا جائےتاکہ قبر میں ڈالنے تک کھل نہ سکیں ۔ میت کو قبر میں لٹا کر یہ بندھن کھول دیے جائیں۔ عورت کو پانچ کپڑوں میں کفن دیا جائے، ایک چادر جو ازار کاکام دے ،دوسری چادر قمیص کے طور پر ہو ،تیسری چادر دوپٹہ کی جگہ پر ہو اور دوبڑی چادریں جسم کو چھپانے کے لیے ہوں۔ نماز جنازہ کے احکام مسلمان میت کو کفن پہنانے کے بعد اس کی نماز جنازہ ادا کی جائے ۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مَنْ شَهِدَ الْجِنَازَةَ حَتَّى يُصَلَّى فَلَهُ قِيرَاطٌ، وَمَنْ شَهِدَ حَتَّى تُدْفَنَ فَلَهُ قِيرَاطَانِ))، قِيلَ: وَمَا الْقِيرَاطَانِ؟ قَالَ: ((مِثْلُ الْجَبَلَيْنِ الْعَظِيمَيْنِ))" [1] ۔مرد اور عورت کے کفن کے کپڑوں کا تین اور پانچ کا فرق صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، لہٰذا تین کپڑوں میں کفن دینا ہی مستحب ہے جن میں قمیص کا ذکر نہیں ہے۔