کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 259
کوئی مرد غسل نہ دے۔ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ وہ کسی مرے ہوئے کافر کو غسل دے ،اس کا جنازہ اٹھائے، اسے کفن پہنائے، اس پر نماز پڑھے یا اس کے جنازے میں شامل ہوکیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ" "اے مسلمانو! تم اس قوم سے دوستی نہ رکھو جن پر اللہ نے غضب نازل کیا۔[1] یہ آیت کریمہ اپنے عموم کے اعتبار سے کافر کو غسل دینے اٹھانے اور اس کے جنازے میں شامل ہونے کی حرمت پر دلالت کرتی ہے ،نیز فرمان الٰہی ہے: "وَلا تُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمْ مَاتَ أَبَداً وَلا تَقُمْ عَلَى قَبْرِهِ إِنَّهُمْ كَفَرُوا بِاللّٰهِ" "ان میں سے کوئی مر جائے تو آپ اس کی نماز جنازہ ہر گز نہ پڑھیں اور نہ اس کی قبر پر کھڑے ہوں، یہ اللہ اور اس کے رسول کے منکر ہیں۔[2] اور ارشاد الٰہی ہے: "مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَالَّذِينَ آمَنُواْ أَن يَسْتَغْفِرُواْ لِلْمُشْرِكِينَ" "پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں۔"[3] کوئی کسی کافر کو دفن بھی نہ کرے، البتہ جب کافر وں میں سے کوئی دفن کرنے والا نہ ہو تب کوئی مسلمان زمین میں گڑھا کھود کر اسے چھپا دے تاکہ اس کی لاش خراب ہونے سے زندہ لوگوں کو تکلیف نہ ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدر کے کفار مقتولوں کو گھسیٹ کر کنویں میں پھینک دیا تھا۔مرتد شخص مثلاً: نماز کو قصداً چھوڑنے والا یا (کفر کی حد تک پہنچانے والی)بدعت کے مرتکب کا بھی یہی حکم ہے۔ واضح رہے کافر زندہ ہو یا کافر مردہ، ایک مسلمان کا یہی موقف ہونا چاہیے کہ وہ بغض وبیزاری کے لائق ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے خلیل ابراہیم علیہ السلام اور ان کے اہل ایمان ساتھیوں کے بارے میں فرمایا: "إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللّٰهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَحْدَهُ " "جب کہ ان سب نے اپنی قوم سے برملا کہہ دیا کہ بے شک ہم تم سے اور جن جن کی تم اللہ کے سوا عبادت کرتے ہو ان سب سے بالکل بیزار ہیں۔ ہم تمہارے (عقائد کے) منکر ہیں ،جب تک تم اللہ کی وحدانیت [1] ۔الممتحنہ60۔13۔ [2] ۔التوبہ9/84۔ [3] ۔التوبہ:9/113۔