کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 256
"أَنَّ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ تُوَفِّيَ سُجِّيَ بِبُرْدِ حِبَرَةٍ " "جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا انتقال ہوا تو یمن کی دھاری دار چادر وں کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک ڈھانپ دیا گیا۔"[1] جب کسی شخص کی وفات کا یقین ہو جائے تو اس کی تجہیز و تکفین میں دیر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لاَ يَنْبَغِي لجِيفَةِ مُسْلِمٍ أنْ تُحْبَسَ بَيْنَ ظَهْرَانَيْ أَهْلِهِ" "کسی مسلمان کی نعش کو اس کے اہل وعیال میں زیادہ دیر روک کر نہ رکھا جائے۔"[2] اس کی وجہ یہ ہے کہ میت کسی قسم کے تغیر و تبدل سے محفوظ ہو جاتی ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا فرمان ہے:"میت کی عزت وتکریم اس کو قبرستان کی طرف جلدی لے جانے میں ہے۔"[3]البتہ اگر میت کی جسمانی ہئیت بدلنے کا اندیشہ نہ ہوتو اس کے اقرباء وغیرہ کا انتظار کرنے میں کوئی حرج نہیں جبکہ وہ قریب رہتے ہوں۔ مسلمان کی موت کا اعلان کرنا مباح ہے تاکہ اس کی تیاری میں جلدی ہو۔ اس کی نماز جنازہ میں حاضری زیادہ ہو اور دعا میں لوگوں کی شرکت ہو۔ البتہ نوحہ ، بین یا قابل فخر کارناموں کے ساتھ اعلان کرنا جاہلیت کاکام ہے۔ اسی طرح تعزیتی اجلاس منعقد کرنا اور ماتمی مجالس کا انعقاد واہتمام کرنا عہد جاہلیت کو واپس لانا ہے۔ مستحب امر یہ ہے کہ میت کی وصیتوں کو جلد نافذ کیا جائے تاکہ اس کو جلد ازجلد اجرو ثواب مل جائے۔اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اجرائے وصیت کا ذکر ادائیگی قرض کے ذکر سے پہلے کیا ہے جس سے اس کی اہمیت کو واضح کرنا اور اس کے اجرا پر رغبت دلانا ہے۔ وصیتوں کے اجرا کے بعد میت پر جو قرضے ہیں انھیں جلد از جلد اداکیا جائے۔[4]خواہ وہ اللہ تعالیٰ کے قرضے ہوں، مثلاً: زکاۃ، حج، جائز نذر یا کفارہ یا لوگوں کے قرضے ہوں ،مثلا:امانت یا غصب شدہ یا عارضی طور پر مانگی ہوئی اشیاء وغیرہ ۔ میت نے ان کی وصیت کی ہو یا نہ کی ہو بہر صورت ان کی ادائیگی ہونی چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا [1] ۔صحیح البخاری، اللباس، باب البرود و الحبر والشملہ، حدیث :5814۔ [2] ۔(ضعیف) سنن ابی داؤد، الجنائز ،باب تعجیل الجنازۃ وکراھیۃ حبسہا ،حدیث 3159۔ [3] ۔المغنی والشرح الکبیر 2/310۔ [4] ۔سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ تم قرآن مجید میں وصیت کا ذکر قرضے سے پہلے پڑھتے ہو لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے فیصلہ میں قرض کو وصیت پر مقدم رکھا ہے ۔(جامع الترمذی، الفرائض، باب ماجاء فی میراث الاخوۃ ،حدیث 2094۔) اس روایت کی روشنی میں میت کے قرضے اس کی وصیت کے اجرا سے پہلے اداہوں گے۔ (صارم)