کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 250
جنازے کے احکام اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ ہماری شریعت ایک کامل شریعت ہے جو انسان کی زندگی اور موت کے بعد تمام مصلحتوں پر مشتمل ہے۔ ان میں جنازے کے وہ احکام بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ نے جاری و ساری فرمائےہیں جن کا تعلق انسان کی بیماری اور موت سے لے کر قبر میں دفن کرنے تک ہے، یعنی مریض کی بیمارپرسی کرنا۔ اسے کلمہ اخلاص کی تلقین کرنا، غسل دینا ، کفن پہنانا ، اس کی نماز جنازہ ادا کرنا اور دفن کرنے کے سب احکام ہیں اور ان کے ضمن میں ادائیگی قرض ،اجرائے وصیت، تقسیم ترکہ اور اس کی ضعیف وناتواں اولاد کی نگہداشت اور سر پرستی کے مسائل بھی ہیں۔ امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جنازہ اور اس سے متعلق جملہ امور کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی مکمل ہدایات دی ہیں جو ہمیں دیگر امتوں سے ممتاز کرتی ہیں اور مکمل احوال کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی عبادت پر مشتمل ہیں، نیز میت کے ساتھ احسان کرنے اور اس کے ساتھ ایسا معاملہ کرنے پر مشتمل ہیں جو اسے قبر اور آخرت میں فائدہ دیں،مثلاً:مریض کی عیادت کرنا، میت کو کلمہ خیر کی تلقین کرنا ،اسے پاک صاف کرنا ،ادب واحترام کے ساتھ قبرستان لے جانا۔ پھر میت کے مسلمان بھائی صف بندی کر کے اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے رب کےحضور کھڑے ہو جاتے ہیں، اللہ تعالیٰ کی حمدو ثنا بیان کرتے ہیں ،نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر درود شریف بھیجتے ہیں۔ پھر میت کے لیے مغفرت رحمت اور اسے معاف کرنے کی اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں، پھر اس کی قبر پر کھڑے ہو کر قبر کے امتحان کے موقع پر اس کے لیے ثابت قدمی کی دعا کرتے ہیں، علاوہ ازیں وقتاً فوقتاً اس کی قبر کی زیارت کی جاتی ہے اور دعا ہوتی ہے۔ ان تمام امور میں اس کا ایسے خیال رکھا جاتا ہے جس طرح زندگی میں ایک شخص اپنے ساتھی کا خیال رکھتا ہے، پھر اس کے اہل وعیال اقارب وغیرہ سے احسان و بھلائی کی جاتی ہے۔"[1] مسنون یہ ہے کہ ہر مسلمان موت کو کثرت سے یاد کرے، گناہوں اور معاصی سے توبہ کرے، آخرت کی تیاری کرے ،ظلم وزیادتی کر کے جن کے حقوق غصب کیے ہیں انھیں واپس کرے اور موت کے اچانک حملے سے قبل اعمال صالحہ انجام دینے میں خود کو مصروف رکھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: [1] ۔زاد المعاد 1/498۔بتصرف یسیر۔