کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 248
(جن سے کسی فتنے کا خوف نہیں )بھی شریک ہونا چاہیے۔ امام انھیں دو رکعتیں پڑھائے، پھر ایک خطبہ دے۔ بعض علماء دو خطبوں کے قائل ہیں۔ بہرحال اس امر میں وسعت ہے، البتہ ایک خطبہ پر اکتفا کرنا دلائل کے اعتبار سے راجح ہے۔ اسی طرح نماز استسقاء کے بعد خطبہ دینا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تھا۔ اہل علم کے ہاں یہی معمول بہ اور راجح ہے۔ بعض روایات میں آپ کا نماز سے پہلے خطبہ دینے کا ذکر ہے اور علماء اس کے قائل بھی ہیں جبکہ درست بات پہلے والی ہے۔ امام کو چاہیے کہ خطبہ استسقاء میں کثرت سے استغفار کرے اور اس مضمون سے متعلقہ آیات کی قراءت کرے کیونکہ توبہ واستغفار بھی بارش کے نزول کا سبب ہے۔ دونوں ہاتھ اٹھا کر اللہ تعالیٰ سے نزول بارش کی زیادہ سے زیادہ دعا کرے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بارش کے لیے اس قدر ہاتھ اٹھا کر دعا کرتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بغلوں کی سفیدی دکھائی دیتی تھی ۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے کیونکہ یہ بھی قبولیت دعا کے اسباب میں سے ہے۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کرتے ہوئے امام کو وہ دعائیہ کلمات کہنے چاہئیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللّٰهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ" "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ( صلی اللہ علیہ وسلم ) میں عمدہ نمونہ (موجود) ہے ہر اس شخص کے لیے جو اللہ تعالیٰ کی اور قیامت کے دن کی توقع رکھتا ہے۔"[1] مسنون یہ ہے کہ دعا کے وقت امام قبلہ رو ہواور اپنی چادر کو پلٹائے جس کی صورت یہ ہے کہ چادر کندھوں پر ڈالے، پھر چادر کا جو کنارہ دائیں کندھے پر ہواسے بائیں اور جوبائیں کندھے پر ہواسے دائیں کندھے پر کرے ۔صحیحین کی روایت ہے: "فَحَوَّلَ إِلَى النَّاسِ ظَهْرَهُ، وَاسْتَقْبَلَ القِبْلَةَ يَدْعُو، ثُمَّ حَوَّلَ رِدَاءَهُ" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی پشت لوگوں کی طرف کی اور قبلہ روہو کر دعا کی ،پھر چادر کو پلٹایا۔"[2] اس میں شاید حکمت یہ ہے کہ یہ اس خواہش کا اظہار ہے کہ چادر کی طرح ہماری بدحالی کی حالت خوشحالی میں بدل جائے۔ سامعین وحاضرین بھی اپنی اپنی چادریں پلٹائیں، چنانچہ مسند احمد میں روایت ہے کہ" لوگوں نے بھی اپنی چادریں پلٹائیں تھیں۔"[3] [1] ۔الاحزاب 21۔ 33۔ [2] ۔صحیح البخاری الاستسقاءباب کیف حول النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ظہر الی الناس ،حدیث 1025۔وصحیح مسلم کتاب و باب صلاۃ الاستسقاء حدیث 894۔ [3] ۔مسند احمد:4/41۔