کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 246
کرام علیہم السلام کی سنن میں سے ایک سنت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "وَإِذِ اسْتَسْقَى مُوسَى لِقَوْمِهِ " "اور جب موسی(علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا۔"[1] خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے متعدد مرتبہ بارش کی دعا کی ،جس کی کئی ایک صورتیں ہیں۔اس نماز کی مشروعیت پر اہل علم کا اجماع ہے۔ جب عرصہ دراز تک بارش نہ ہونے کی وجہ سے زمین بنجر اور خشک ہو رہی ہو اور اس کی وجہ سے لوگوں کا نقصان ہو رہا ہو۔ تب ان کے لیے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں کہ وہ اپنے رب کے حضور گڑ گڑا کرفریاد کریں اور بارش کی درخواست کریں، کبھی تو باجماعت نماز استسقا پڑھی جائے یا اکیلے اکیلے بارش کی دعا کی جائے اور کبھی خطبہ جمعہ میں صرف دعا کی جائے۔ اس کے لیے خطبہ جمعہ میں بھی دعا کرنا درست ہے کہ امام دعا کرے اور سامعین اس کی دعا پر آمین کہیں۔ فرض نماز کے بعد طلب بارش کی دعا کرنا بھی صحیح ہے۔ اسی طرح تنہائی میں (خطبہ اور نماز کے بغیر ) بھی دعا کرنا درست ہے۔ نماز استسقا سنت مؤکدہ ہے، چنانچہ عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: "خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَسْقِي، فَتَوَجَّهَ إِلَى القِبْلَةِ يَدْعُو ،وَحَوَّلَ رِدَاءَهُ، ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ يَجهَر فِيهِمَا بِالقِرَاءَةِ" "ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم طلب باراں کے لیے نکلے، قبلہ رو ہوئے، دعا کی اور اپنی چادر کو پلٹا یا ،پھر دورکعتیں اونچی قراءت سے پڑھائیں۔[2] نماز استسقاء مقام اور احکام کے لحاظ سے نماز عید کی طرح ہے، یعنی نماز عید کی طرح اسے کھلے میدان میں ادا کرنا مستحب ہے۔ احکام میں یکسانیت یوں ہے کہ نماز عید کی طرح نماز استسقاکی بھی دورکعتیں ہیں، بلند آواز سے قراءت ہوتی ہے۔ خطبہ سے پہلے نماز استسقا پڑھی جاتی ہے۔ قراءت شروع کرنے سے پہلے بارہ تکبیریں بھی دونوں رکعتوں میں کہی جاتی ہیں۔[3]سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "وَصَلَّى رَكْعَتَينِ كَمَا كَانَ يُصَلِّي فِي العِيدِ" [1] ۔البقرۃ:60۔ [2] ۔صحیح البخاری الاستسقاء باب الجہر بالقراء ۃفی الا ستسقاء، حدیث 1024۔1025۔وصحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ الاستسقاء حدیث 894۔ [3] ۔ نماز استسقا میں بارہ تکبیریں کہنے کی کوئی صحیح روایت نہیں مل سکی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مذکورہ روایت میں نماز استسقا کی نماز عید سے مشابہت و مماثلت صرف تعداد رکعات کے اعتبار سے واضح ہوتی ہے۔(فاروق صارم)