کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 244
"قالت :خَسَفَت الشَّمْسُ فِي حَيَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَخَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ فَصَفَّ النَّاسُ وَرَاءَهُ ، فَكَبَّرَ ، فَاقْتَرَأَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً ، ثُمَّ كَبَّرَ فَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا . ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ ، فَقَامَ وَلَمْ يَسْجُدْ، وَقَرَأَ قِرَاءَةً طَوِيلَةً هِيَ أَدْنَى مِنْ الْقِرَاءَةِ الْأُولَى ، ثُمَّ كَبَّرَ وَرَكَعَ رُكُوعًا طَوِيلًا، وَهُوَ أَدْنَى مِنْ الرُّكُوعِ الْأَوَّلِ. ثُمَّ قَالَ: سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ قَالَ فِي الرَّكْعَةِ الْآخِرَةِ مِثْلَ ذَلِكَ ، فَاسْتَكْمَلَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ، فِي أَرْبَعِ سَجَدَاتٍ . وَانْجَلَتْ الشَّمْسُ قَبْلَ أَنْ يَنْصَرِفَ ، "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں سورج گرہن ہوگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں تشریف لائے تو لوگوں نے آپ کے پیچھے صفیں بنائیں۔آپ نے تکبیر کہی اور لمبی قراءت کی،پھر اللہ اکبر کہا اور لمبارکوع کیا،پھر سمع اللہ لمن حمدہ کہتے ہوئے کھڑے ہوگئے اور سجدہ نہ کیا بلکہ قراءت شروع کی جو کہ پہلی قراءت کی نسبت کچھ کم تھی،پھرتکبیر کہی اور لمبا رکوع کیا جو پہلے رکوع کی نسبت چھوٹا تھا،پھر " سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ رَبَّنَا وَلَكَ الْحَمْدُ"کہا ،پھر سجدہ کیا،پھر دوسری رکعت بھی اسی طرح ادا کی،آپ نے(دورکعتوں والی نماز) چاررکوع اورچارسجدوں کے ساتھ نماز مکمل کی،نماز سے فارغ ہونے تک سورج صاف ہوچکاتھا۔"[1] (7)۔مسنون یہ ہے کہ نماز کسوف باجماعت ادا کی جائے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا تھا۔اگرچہ یہ نماز بھی (دیگر نوافل کی طرح) فرداً فرداً جائز ہے لیکن باجماعت ادا کرنا افضل ہے۔ (8)۔نمازکسوف ادا کرلینے کے بعد امام کوچاہیے کہ وہ لوگوں کو وعظ ونصیحت کرے۔ان کی غفلت اور لاپرواہی پر تنبیہ کرے۔دعاواستغفار کا حکم دے۔سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے: "ثم انصرف ....... فَخَطَبَ النَّاسَ، فَحَمِدَ اللّٰهَ، وَأَثْنَى عَلَيْهِ»، ثُمَّ قَالَ: " إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ، لَا يَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ، فَاذْكُرُوا اللّٰهَ وَكَبِّرُوا،وَ صَلُّوا وَتَصَدَّقُوا، " "نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز کسوف سے فارغ ہوئے۔۔۔۔۔تو لوگوں سے مخاطب ہوئے،اللہ تعالیٰ کی حمد وثنا بیان کی [1] ۔صحیح البخاری ،الکسوف، باب خطبۃالامام فی الکسوف ،حدیث 1046 وصحیح مسلم الکسوف، باب صلاۃ الکسوف، حدیث 901۔