کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 241
"اور دن اور رات اور سورج اور چاند بھی(اس کی) نشانیوں میں سے ہیں،تم سورج کو سجدہ کرونہ چاندکو بلکہ سجدہ اس اللہ کے لیےکرو جس نے ان سب کو پیدا کیا ہے،اگر واقعی تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔"[1] (1)۔نماز کسوف کے سنت مؤکدہ ہونے میں علماء کااتفاق ہے کیونکہ یہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل ہی سے ثابت ہے۔ (2)۔سورج یا چاند کا گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے،جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے۔اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "وَمَا نُرْسِلُ بِالْآيَاتِ إِلَّا تَخْوِيفًا" "ہم تو لوگوں کو دھمکانے کے لیے ہی نشانات بھیجتے ہیں۔"[2] (3)۔عہد نبوی میں سورج کو گرہن لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم چادرگھسیٹتے ہوئے گھبراہٹ کے ساتھ جلدی میں مسجد کی طرف آئے،لوگوں کو نماز پڑھائی اور انھیں بتایاکہ یہ گرہن اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ایک ایسی نشانی ہے جس کے ذریعے سے وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے،نیز لوگوں پر عذاب کےنازل ہونے کاسبب ہوسکتا ہے۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاتمے کے لیے چند اعمال صالحہ کی طرف توجہ دلائی۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسی صورت حال میں گرہن کے صاف ہونے تک نماز،دعا،استغفار،صدقہ اور غلاموں کو آزاد کرنے کا حکم دیا،مقصد یہ تھا کہ اس صورت حال میں لوگ اللہ تعالیٰ کی طرف توجہ اوررجوع کریں۔ زمانہ جاہلیت میں لوگ یہ اعتقاد رکھتے تھے کہ یہ گرہن کسی عظیم شخصیت کی ولادت یاوفات کے موقع پر ہوتا ہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعتقاد کو باطل قراردیا اور اس کے بارے میں حکمت الٰہیہ کی وضاحت فرمادی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں جس روزآپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرزند ابراہیم علیہ السلام فوت ہوا،اتفاقاً اسی روز سورج کوگرہن بھی لگ گیا،لوگوں نے کہا کہ ابراہیم علیہ السلام کی موت کے سبب سورج کو گرہن لگاہے،چنانچہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی تردید کرتے ہوئے فرمایا: "إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللّٰهِ يُخَوِّفُ اللّٰهُ بِهِمَا عِبَادَهُ ، وَإِنَّهُمَا لَا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ مِنْ النَّاسِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ مِنْهَا شَيْئًا فَصَلُّوا وَادْعُوا اللّٰهَ حَتَّى يُكْشَفَ مَا بِكُمْ" [1] ۔حٰم السجدۃ 41/37۔ [2] ۔بنی اسرائیل 17/59۔