کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 240
وہ ظہر کے بعد تکبیرات کہنا شروع کرے کیونکہ اکثر لوگوں کاعمل یہی ہے کہ وہ رمی چاشت کے وقت کرتے ہیں اور تکبیرات ظہر کے بعدکہتے ہیں۔ (22)۔عید سے فراغت کے بعد ایک دوسرے کو مبارک بادکہنے میں کوئی حرج نہیں۔اس روز مسلمان بھائی سے ملاقات کرتے وقت یہ کلمات کہنے مناسب ہیں:"تقبل اللّٰه منا ومنكم""اللہ تعالیٰ ہمارا اور تمہارا عمل قبول کرے۔" شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت سے مبارکبادکا عمل ثابت ہے۔اسی لیے امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی رخصت دی ہے۔"[1] مبارک باد کامقصد پیارومحبت اور خوشی کا اظہار ہے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں مبارک دینے میں پہل نہیں کرتا،البتہ اگر کوئی مبارک دے تو اسے جواب دے دیتا ہوں۔شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ سلام کا جواب دینا واجب ہے جب کہ مبارک باد کی ابتدا کرنا ایسی سنت نہیں جس کاحکم ہو اور نہ ہی یہ منع ہے۔"[2] (23)۔مبارک دیتے وقت مصافحہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ نماز کسوف کے احکام اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "هُوَ الَّذِي جَعَلَ الشَّمْسَ ضِيَاءً وَالْقَمَرَ نُورًا وَقَدَّرَهُ مَنَازِلَ لِتَعْلَمُوا عَدَدَ السِّنِينَ وَالْحِسَابَ مَا خَلَقَ اللّٰهُ ذَلِكَ إِلا بِالْحَقِّ يُفَصِّلُ الآيَاتِ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ" "وہی ہے(اللہ) جس نے سورج کو چمک والا بنایا اور چاند کو نور اور اس کی منزلیں مقررکیں،تاکہ تم سالوں کی گنتی اور حساب معلوم کرسکو۔یہ(سب کچھ) اللہ نے حق ہی کے ساتھ پیدا کیا ہے۔وہ اپنی آیتیں تفصیل سے بیان کرتا ہے ان لوگوں کے لیے جو جانتے ہیں۔"[3] اور ارشاد باری تعالیٰ ہے: "وَمِنْ آيَاتِهِ اللَّيْلُ وَالنَّهَارُ وَالشَّمْسُ وَالْقَمَرُ لا تَسْجُدُوا لِلشَّمْسِ وَلا لِلْقَمَرِ وَاسْجُدُوا لِلّٰهِ الَّذِي خَلَقَهُنَّ إِنْ كُنْتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ" [1] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 24/253۔ [2] ۔مجموع الفتاویٰ 24/253۔ [3] ۔یونس:10/5۔