کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 236
کر کھڑے ہوئے اور خطبہ دیا،تقویٰ کا حکم دیا اور اطاعت کرنے کی تلقین کی۔"[1] عید الفطر کے خطبے میں امام کو چاہیے کہ وہ صدقۃ الفطر ادا کرنے کی طرف توجہ دلائے،اس کے احکام،اس کی مقدار،اس کا وقت اورجنس کی انواع کے مسائل سے آگاہ کرے۔جب کہ عیدالاضحیٰ کے خطبہ میں قربانی کے مسائل واحکام بتائے جائیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحیٰ کے خطبے میں اکثر یہی مسائل بیان کیا کرتے تھے۔علاوہ ازیں خطباء کو چاہیے کہ اس قسم کے عظیم اجتماع میں تقویٰ اور وعظ ونصیحت کے ساتھ ساتھ حالات وواقعات کی مناسبت سے گفتگو کریں جس میں لوگوں کی راہنمائی ہو،غافل کو تنبیہ ہو اور جاہل کو دینی مسائل کا علم ہو۔ (16)۔عید گاہ میں عورتوں کو بھی حاضر ہونا چاہیے جیسا کہ پہلے بیان ہوچکاہے۔خطیب کو چاہیے کہ خطبہ عید میں عورتوں سے بھی مخاطب ہو۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب محسوس کیا کہ خواتین تک میری آواز پہنچ نہیں سکے گی تو آ پ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے مجمع میں چلے گئے،انھیں وعظ ونصیحت کی اور صدقہ کرنے کی ترغیب دلائی۔اس واقعہ سے ثابت ہواکہ خطبہ عید کا کچھ حصہ خواتین کے لیے بھی مخصوص ہوناچاہیے کیونکہ انھیں اس کی اشد ضرورت ہے۔اور اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع بھی ہے۔ (17)۔نماز عید کے احکام میں یہ بھی ہے کہ عید گاہ میں نماز باجماعت سے پہلے یا بعد میں نفل نماز ادا کرنا مکروہ ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عید کے روز نکلے تو آپ نے صرف دورکعتیں نماز پڑھائی،اس سے پہلےیا بعد میں کوئی نماز نہیں پڑھی۔"[2] عيد نماز سے پہلے یابعد میں نفل نہ پڑھنے کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ لوگ یہ نہ سمجھنا شروع کردیں کہ اس نماز کی بھی سنتیں ہوتی ہیں۔ امام زہری رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:" میں نے کسی بھی صاحب علم سے نہیں سنا کہ اسلاف میں سے کوئی بھی نماز عید [1] ۔صحیح البخاری العیدین باب المشی والرکوب الی العید والصلاۃ قبل الخطبۃ وبغیر اذان ولااقامۃ، حدیث 958 وصحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ العیدین، حدیث 885 واللفظ لہ۔ [2] ۔صحیح البخاری، العیدین، باب الصلاۃ قبل العید وبعدھا ،حدیث 989 وصحیح مسلم ،صلاۃ العیدین، باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا فی المصلی ،حدیث 884۔