کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 234
گئی۔[1] ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"نبی صلی اللہ علیہ وسلم تکبیرات کے درمیان معمولی سا سکتہ کیا کرتے تھے لیکن آپ سے تکبیرات کے درمیان کوئی معین ذکر ثابت نہیں۔"[2] (10)۔اگر تکبیرات کی تعدادمیں شک پڑجائے تو کم عدد کو شمار کرے،مثلاً:اگرشک ہوکہ تین تکبیریں کہی گئی ہیں یا چار تو تین سمجھ لے کیونکہ کم عدد یقینی ہے۔ (11)۔اگر کوئی عید کی تکبیرات کہنا بھول گیا حتیٰ کہ اس نے قراءت شروع کردی تو قراءت جاری رکھے کیونکہ یہ تکبیرات سنت تھیں اب ان کا موقع گزرگیا ہے۔ (12)۔اگر کوئی شخص نماز عید میں تب شامل ہوا جب امام کی قراءت ہورہی تھی تووہ تکبیر تحریمہ کہہ کر شامل ہوجائے اور عید کی زائد تکبیریں(اکیلا) نہ کہے۔یا کوئی شخص امام کے ساتھ رکوع میں شریک ہواتو وہ بھی تکبیر تحریمہ کہے اور رکوع میں چلاجائے، زائد تکبیریں کہنے میں مشغول نہ ہو۔ (13)۔نماز عید کی دورکعتیں ہیں۔امام ان میں بآواز بلند قراءت کرے کیونکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "كان النبي صلى اللّٰهُ عليه وسلم يجهر بالقراءة في العيدين والاستسقاء" "نبی صلی اللہ علیہ وسلم عیدین اوراستسقاء کی نماز میں بآواز بلند قراءت کرتےتھے۔"[3] اس پر علماء کا اجماع ہے اور اسی پر سلف کا عمل چلا آرہا ہے۔ (14)۔امام نماز عید کی پہلی رکعت میں سورۃ الفاتحہ کے بعدسورۃ الاعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورۃ الغاشیہ پڑھے۔ حضرت سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "كان رَسُولُ اللّٰهِ صلى اللّٰهُ عليه وسلم يَقْرَأُ في الْعِيدَيْنِ : بـ{سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى}، و{هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ}" "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدین کی نماز میں پہلی رکعت میں {سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى} اور دوسری میں{هَلْ أَتَاكَ حَدِيثُ الْغَاشِيَةِ} تلاوت کیاکرتے تھے۔"[4] [1] ۔(ضعیف) السنن الکبریٰ للبیہقی صلاۃ العیدین باب یاتی بدعاء الافتتاح عقیب تکبیرۃ الافتتاح 3/291۔ [2] ۔زاد المعاد 1/443۔امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ کی بات ہی زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے۔(صارم)۔ [3] ۔(ضعیف) سنن الدارقطنی ،کتاب الاستسقاء 2/66 حدیث 1785 وارواء الغلیل حدیث 643۔ [4] ۔سنن ابن ماجہ اقامۃ الصلوات باب ماجاء فی القراءۃ فی صلاۃ العیدین حدیث 1283 ومسند احمد 5/14۔