کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 232
خلفاء رضی اللہ عنہم نے بھی اسی طرح کیا تھا۔ (4)۔نمازعید کی دو رکعتیں ہیں جو خطبے سے پہلے ادا کی جاتی ہیں۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "شهدتُ العيدَ مع رسولِ اللّٰهِ صلَّى اللّٰهُ عليه وسلَّم، وأبي بكرٍ، وعُمرَ، وعُثمانَ ، فكلُّهم كانوا يُصلُّونَ قَبلَ الخُطبةِ" "میں نےرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدناابوبکر ،عمر اورعثمان رضی اللہ عنہم کے ساتھ عید کی نماز پڑھی،یہ سب حضرات نماز خطبے سے پہلے پڑھتے تھے۔"[1] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور بعد کے اہل علم کایہی طریقہ تواتر سے چلا آرہا ہے کہ عیدین کی نماز خطبے سے پہلے ہے۔[2] نماز عید میں خطبے کا بعد میں ہونے اور نماز جمعہ میں خطبے کا پہلے ہونے میں شاید حکمت یہ ہے کہ خطبہ جمعہ نماز کی شرط ہے اور شرط مشروط سے مقدم ہوتی ہے۔جب کی عیدین میں خطبہ شرط نہیں بلکہ سنت ہے۔ (5)۔اہل اسلام کااس امر پر اجماع ہے کہ عیدین کی نماز دورکعتیں ہیں۔سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے: "أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم خَرَجَ يَوْمَ الْفِطْرِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَمْ يُصَلِّ قَبْلَهَا وَلَا بَعْدَهَا" "نبی صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر کے دن نکلے تو آپ نے صرف دورکعتیں نماز ادا کی،پہلے اور بعد میں کوئی نفل نہیں پڑھے۔"[3] سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "صَلَاةُ الْأَضْحَى رَكْعَتَانِ وَصَلَاةُ الْفِطْرِ رَكْعَتَانِ....... تَمَامٌ غَيْرُ قَصْرٍ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم" "عید الاضحیٰ اور عیدالفطر کی نماز دو،دورکعتوں پر مشتمل ہے۔۔۔یہ مکمل نماز ہے قصر نہیں۔یہ بات(تمہارے نبی)محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے۔"[4] "وہ شخص نامراد ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر افتراباندھا۔"[5] [1] ۔صحیح البخاری ،العیدین باب الخطبۃ بعدالعید حدیث 962 وصحیح مسلم کتاب وباب صلاۃ العیدین حدیث 884۔ [2] ۔جامع الترمذی العیدین باب ماجاء فی صلاۃ العیدین قبل الخطبۃ تحت حدیث 531۔ [3] ۔صحیح البخاری العیدین باب الصلاۃ قبل العید وبعدھا حدیث 989 وصحیح مسلم صلاۃ العیدین باب ترک الصلاۃ قبل العید وبعدھا فی المصلی حدیث 884۔ [4] ۔مسند احمد:1/37۔ [5] ۔مسند احمد 1/91 عن علی رضی اللّٰه عنہ ۔