کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 230
تو اجتماع ہوتے ہیں(بخلاف جمعۃ المبارک کے اجتماع کے) اس لیے اس میں کوئی مشکل بھی نہیں،البتہ جہاں مجبوری ہووہاں مسجد میں نماز عید ادا کرناجائز ہے،جیسے مکہ مکرمہ وغیرہ میں۔ (6)۔نمازعید کاابتدائی وقت تب شروع ہوتا ہے جب سورج ایک نیزہ کی مقدار بلند ہوجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اسی وقت عید کی نماز ادا کرتے تھے۔[1]اور آخری وقت زوال آفتاب تک ہے۔ (7)۔اگرزوال کے بعد عید کاعلم ہواتو اگلےدن اس کی قضادی جائے۔صحابہ کرام رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں: ایک مرتبہ بادلوں کی وجہ سے ہم شوال کا چاند نہ دیکھ سکے تو ہم نے روزہ رکھ لیا۔دن کےآخری حصے میں ایک قافلہ آیاتو انھوں نے گواہی دی کہ ہم نے گزشتہ رات چاند دیکھا تھا۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ وہ آج کارکھا ہوا روزہ ختم کردیں اور کل صبح عید گاہ کی طرف نکلیں۔[2] اگر نماز عید زوال آفتاب کے بعد ادا کرنا درست ہوتا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اسے اگلے دن کےلیے مؤخر نہ کرتے۔ علاوہ ازیں عید کااجتماع ایک بہت بڑااجتماع عام ہوتا ہے۔اس لیے اس کی تیاری کے لیے مناسب وقت دینا چاہیے۔ (8)۔عید الاضحیٰ کی نماز کو جلدی ادا کرنا اور عید الفطر کی نماز میں قدرے تاخیرکرنا مسنون ہے۔امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے مرسلاً روایت بیان کی ہے: "ان النبي صلي اللّٰهُ عليه وسلم كَتَبَ إلَى عَمْرِو بن حَزْمٍ وهو بِنَجْرَانَ أَنْ عَجِّلْ الْغُدُوَّ إلَى الأَضْحَى وَأَخِّرْ الْفِطْرَ وَذَكِّرْ الناس" "نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ کی طرف لکھاتھا کہ عید الاضحیٰ میں جلدی کرنا اور عید الفطر میں تاخیرکرنا اور لوگوں کو پندونصیحت کرنا۔"[3] نماز عید الاضحیٰ جلدی ادا کرنے میں یہ حکمت ہے کہ لوگوں کوقربانی کرنے کے لیے زیادہ وقت مل جائے۔اورعیدالفطر میں تاخیر کرنے کا یہ فائدہ ہے کہ صدقۃ الفطر کے لیے زیادہ وقت نکل آئے۔ (9)۔مسنون یہ ہے کہ نماز عیدالفطر کے لیے نکلنے سے پہلے کھجوریں کھائی جائیں جب کہ عیدالاضحیٰ کے موقع پر نماز سےفارغ ہوکر کچھ کھایا جائے۔سیدنا بریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: [1] ۔سنن ابی داود، الصلاۃ، باب وقت الخروج الی العید ،حدیث 1135 وتلخیص الحبیر 2/83۔ [2] ۔مسند احمد 5/75 وسنن ابی داود ،الصلاۃ ،باب اذ لم یخرج الامام للعید من یومہ یخرج من الغد، حدیث 1157۔ [3] ۔(ضعیف جدا) کتاب الام للامام الشافعی، العیدین ،باب وقت الغدو الی العیدین ،حدیث 457 وارواء الغلیل، حدیث 633۔