کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 227
یہ لہجہ وعظ ونصیحت کے لیے زیادہ مؤثرہے ۔علاوہ ازیں خطیب کو چاہیے کہ واضح ،مؤثر اور جامع الفاظ وعبارات کاسہارالے۔ (10)۔خطیب خطبہ جمعہ میں اہل اسلام کےلیے ان کے دین ودنیا میں بھلائی اور اصلاح کی دعا کرے۔اسلامی حکومت کے امیر اور بااختیار لوگوں کے حق میں خیر وبہتری کی دعاکرے۔سلف صالحین کا روز اول سے یہی انداز چلا آرہاہے۔اسے چھوڑنا اہل بدعت کا شیوہ ہے۔امام احمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اگر ہمیں کسی دعا کی قبولیت کا یقین ہوتو ہم اپنے خلیفہ کے حق میں خیر وبہتری کی دعا کریں۔"[1] یہ حقیقت ہے کہ خلیفہ وامیر کادرست ہونا مسلمان رعایا کی درستی ہے۔افسوس ہے کہ آج یہ چیز ختم ہوچکی ہے حتیٰ کہ لوگ حکمرانوں کے حق میں دعا کرنے پر تعجب کرتے ہیں بلکہ دعا کرنے والے کے حق میں بدگمانی رکھتے ہیں۔ (11)۔دو خطبوں سے فارغ ہوکر فوراًنماز کھڑی کرنا مسنون عمل ہے۔اس میں لمبا وقفہ ہرگز نہیں ہونا چاہیے۔ (12)۔نماز جمعہ کی بالاجماع دورکعتیں ہیں جن میں قراءت بلند آواز سے کی جائے۔پہلی رکعت میں سورۃ فاتحہ کے بعد سورہ جمعہ یا سورہ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون یا سورہ غاشیہ کی قراءت کرنا مسنون ہے۔ان سورتوں میں سے ایک سورت کو جمعے کی دونوں رکعتوں میں آدھی آدھی کرکے پڑھنا خلاف سنت عمل ہے۔ نماز جمعہ میں بلند آواز سے قراءت کرنے میں یہ حکمت ہے کہ اس سے مقصد جمعہ(وعظ ونصیحت) خوب حاصل ہوجاتا ہے۔ نماز عیدین کے احکام نمازعیدین(عیدالفطر اورعیدالاضحیٰ) کتاب اللہ،سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت سے ثابت ہے۔مشرکین مختلف اوقات ومقامات میں مختلف تہوار مناتے تھے۔چنانچہ اسلام نے اسے ختم کرکے عید الفطر اور عیدالاضحیٰ کے تہوار مقرر کیے جن کا مقصد رمضان المبارک کے روزے اور بیت اللہ کے حج جیسی عظیم عبادات کی بجا آوری پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا ہے۔ (1)۔صحیح احادیث میں مذکور ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے تو دیکھا کہ اہل مدینہ نے لہو ولعب کے لیے سال میں دو دن مقرر کیے ہوئے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [1] ۔السیاسۃ الشرعیۃ فصل منزلۃ الولایۃ: 1/169۔