کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 216
حسب طاقت پڑھ لیے جائیں درست ہیں،حتیٰ کہ اگر کوئی نہ بھی پڑھے تو کوئی حرج نہیں،یہی قول راجح ہے۔اگر جاہل لوگ اسے سنت مؤ کدہ کادرجہ دیں تو انھیں سمجھانے کے لیے کبھی کبھار یہ نوافل چھوڑدینا افضل ہے۔[1] (البتہ تحیۃالمسجد دورکعات ضروری ہیں کیونکہ یہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے۔)"[2] (4)۔یہ تو نماز جمعہ سے پہلے کے نوافل کا تذکرہ تھا جو مؤکدہ نہیں ہیں،البتہ جمعہ کی فرض نماز کے بعد مؤکدہ سنتیں ہیں،چنانچہ صحیح مسلم میں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا صَلَّى أَحَدُكُمُ الْجُمُعَةَ فَلْيُصَلِّ بَعْدَهَا أَرْبَعًا" "جب کوئی شخص نماز جمعہ پڑھے تو فرضوں کے بعد چار رکعات ادا کرے۔"[3] صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایت میں ہے: "أَنَّ النبي صلى اللّٰهُ عليه وسلم كان يُصَلِّي بَعْدَ الْجُمُعَةِ رَكْعَتَيْنِ" "نبی صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے بعد دورکعات پڑھتے تھے۔"[4] ان دونوں حدیثوں کو ملا کر یہ صورت سامنے آتی ہے کہ جمعہ کے بعد اگر کوئی گھر جا کر نماز پڑھے تو دورکعتیں پڑھے اور اگر وہیں مسجد میں ادا کرنا چاہے تو چاررکعات ادا کرے۔اگر چاہے تو چھ رکعات ادا کرے کیونکہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما جب نماز جمعہ پڑھ لیتے تو پھر آگے بڑھ کر دو رکعتیں پڑھتے،پھر جگہ بدل کر چاررکعات پڑھتے تھے۔[5] (5)۔مسجد میں کسی بھی جگہ پر بیٹھنے کا زیادہ حقدار وہ شخص ہے جو خود وہاں پہلے آجائے۔بعض لوگ یوں کرتے ہیں کہ مسجد کی کسی خاص جگہ یا پہلی صف میں مصلی یا لاٹھی یا کپڑا یا جوتا رکھ کراپنے لیے یا کسی کے لیے جگہ محفوظ کرلیتے ہیں تاکہ کوئی دوسرا شخص وہاں نہ بیٹھ سکے،پھر وہ خود یا جس شخص کے لیے وہ جگہ مخصوص کی گئی دیر سے آتا ہے ،اس طرح پہلے آنے والا وہاں بیٹھنے کے ثواب سے محروم ہوجاتاہے۔یہ طریقہ بالکل غلط ہے جس کی قرآن وحدیث میں قطعاً کوئی گنجائش نہیں بلکہ علمائے کرام نے وضاحت کی ہے کہ جو شخص مسجد میں آئے تو وہ پہلی صف میں بیٹھے،اگر کسی نے کوئی چیز رکھ کرجگہ روک لی ہوتو اسے اٹھا دے اور خود بیٹھ جائے کیونکہ پہلے آنے والا پہلی صف میں بیٹھنے کا زیادہ حق دار ہے جو شخص مسجد میں اس طرح ایک جگہ پر قبضہ کرکے بعد میں آنے والے کو وہاں بیٹھنے سے روکتا ہےوہ [1] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ بتصرف 24/189۔194۔ [2] ۔صحیح البخاری الصلاۃ باب اذا دخل المسجد فلیرکع رکعتین حدیث 444۔ [3] ۔صحیح مسلم الجمعۃ باب الصلاۃ بعدالجمعۃ حدیث 881۔ [4] ۔صحیح البخاری الجمعۃ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ وقبلھا حدیث 937 وصحیح مسلم الجمعۃ باب الصلاۃ بعدالجمعۃ حدیث 882 واللفظ لہ۔ [5] ۔سنن ابی داود الصلاۃ باب الصلاۃ بعد الجمعۃ حدیث 1130۔