کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 215
سے جو سوال کرے تو اللہ تعالیٰ اسے وہ چیز ضرور عطا کرے گا۔راوی بیان کرتا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہاتھ سےاشارہ کرکے بتایا کہ وہ وقت بہت کم ہے۔"[1] 9۔اس روز کی ایک خصوصیت خطبہ جمعہ بھی ہے،جس میں اللہ تعالیٰ کی ثنا اور بزرگی وشان بیان ہوتی ہے،اس کی وحدانیت کی شہادت دی جاتی ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا تذکرہ ہوتا ہے اور بندوں کو وعظ ونصیحت کی جاتی ہے۔ اس روز کی اوربھی بہت سی خصوصیات ہیں ،چنانچہ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مایہ نازکتاب زادالمعاد میں ایک سو تینتیس (133) خصوصیات کا تذکرہ کیا ہے۔ ان فضائل وخصوصیات کے باوجود بہت سے لوگ اس دن کے حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی کرجاتے ہیں۔چاہیے تو یہ تھا کہ ان کے ہاں اس دن کی شان اورعظمت ہفتہ کے دوسرے تمام دنوں سے بڑھ کر ہوتی لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے بلکہ بعض بے نصیب اس عظیم دن کو سونے اور آرام کرنے کا دن خیال کرتے ہیں۔بعض لوگ لہوولعب میں اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غفلت میں یہ دن ضائع کردیتے ہیں حتیٰ کہ اس روز فجر کی نماز میں نمازیوں کی تعداد میں واضح کمی دیکھنے میں آتی ہے۔لاحول ولا قوۃ الا باللّٰه۔ (2)۔جمعہ کے دن مسجد میں جلدی جانا مستحب ہے،جب کوئی مسجد میں داخل ہوتو"تحیۃ المسجد" کی دو رکعتیں ضرور پڑھے۔ (3)۔مسجد میں جلدی آجانے کی صورت میں جس قدر زیادہ سے زیادہ نوافل ادا کرسکتا ہو،ادا کرے۔سلف صالحین کا یہی طریقہ تھا کہ وہ جمعہ کی ادائیگی کے لیے جلد ہی مسجد میں پہنچ جایا کرتے تھے اور امام کے منبر کی طرف نکلنے سے پہلے پہلے کثرت سے نوافل پڑھ لیا کرتے تھے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اور بہتر یہ ہے کہ جو شخص ادائیگی جمعہ کے لیے مسجد میں جلدی آجائے تو وہ امام کے نکلنے تک نفل نماز یا ذکر میں مشغول رہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ادائیگی نوافل کی ترغیب دیتے ہوئے فرمایا: "ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ" "پھر وہ حتیٰ المقدور نماز پڑھے۔"[2] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا بھی اسی پر عمل تھا کہ جب وہ ادائیگی جمعہ کے لیے تشریف لاتے تھے تو حسب توفیق نوافل ادا کرتے تھے ۔کوئی دس رکعات پڑھتا تو کوئی بارہ رکعات ادا کرتا،کوئی آٹھ اور کوئی اس سے کم پڑھتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ جمہور علمائے کرام کایہ مسلک ہے کہ جمعۃ المبارک کا خطبہ شروع ہونے سے قبل کوئی مقرر سنت موکدہ نہیں،البتہ نوافل ہیں جن کی تعداد مقرر نہیں جتنے بھی [1] ۔صحیح البخاری الجمعۃ باب الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 935 وصحیح مسلم الجمعۃ باب فی الساعۃ التی فی یوم الجمعۃ حدیث 852۔ [2] ۔صحیح البخاری الجمعۃ باب الدھن للجمعۃ حدیث 883۔