کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 212
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ" "جمعۃ المبارک کادن تمہارے دنوں میں سے افضل دن ہے۔"[1] نیز فرمایا: "نحْنُ الآخِرونَ السابِقونَ يومَ القيامةِ، بَيْدَ أنَّهم أُوتُوا الكتابَ منْ قَبلِنا،ثم هذا يومُهمُ الذي فُرضَ عليهِم، فاختلَفُوا فيهِ، فهَدانا اللّٰه لهُ، فالناسُ لَنا فيهِ تَبَعٌ" "ہم(دنیامیں)آخر میں آئے ہیں لیکن قیامت کے دن سب سے آگے ہوں گے،باوجود یہ کہ یہود ونصاریٰ کو ہم سے پہلے کتاب دی گئی۔یہ دن(جمعہ) اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا لیکن انھوں نے اختلاف کرتے ہوئے اسے قبول نہ کیا۔اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے ہماری راہنمائی کی(توہم نے قبول کرلیا)،لہذا یہ لوگ اس دن کی وجہ سے ہم سے پیچھے ہیں۔"[2] نیز صحیح مسلم میں ہے،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أَضَلَّ اللّٰهُ عَنْ الْجُمُعَةِ مَنْ كَانَ قَبْلَنَا ، فَكَانَ لِلْيَهُودِ يَوْمُ السَّبْتِ ، وَكَانَ لِلنَّصَارَى يَوْمُ الأَحَدِ ، فَجَاءَ اللّٰهُ بِنَا فَهَدَانَا اللّٰهُ لِيَوْمِ الْجُمُعَةِ" "اللہ تعالیٰ نے ہم سے پہلے لوگوں(یہودونصاریٰ) کو جمعہ کے بارے میں(اختلاف کرنے کی وجہ سے) راہ راست پر نہ رکھا،تب یہود کے لیے ہفتہ کا دن مقررہوا اور عیسائیوں کے لیے اتوار کا دن متعین ہواجب اللہ تعالیٰ ہمیں لایا تو ہمیں جمعہ کے دن کی راہنمائی فرمائی۔"[3] اللہ تعالیٰ نے جمعہ کے روز مسلمانوں پر یہ اجتماع اس لیے مقرر کیا تاکہ لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے جو عظیم انعامات ہیں ان سے آگاہ ہوں اور پھر اس روز"خطبہ"مقرر فرمایا تاکہ لوگوں کو ان انعامات کی یاددہانی کروائی جائے اور انھیں ان انعامات کا شکریہ ادا کرنے کی رغبت دلائی جائے۔اور اسی طرح دن کے وسط میں نماز جمعہ فرض کی تاکہ ایک شہر کے لوگ ایک جگہ عظیم اجتماع کی شکل میں اکھٹے ہوسکیں۔ [1] ۔صحیح مسلم الجمعۃ باب فضل یوم الجمعۃ حدیث 854 وسنن ابی داود الصلاۃ باب فضل یوم الجمعۃ حدیث 1047 وسنن النسائی الجمعۃ باب اکثار الصلاۃ علی النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم یوم الجمعۃ حدیث 1375 واللفظ لہ۔ [2] ۔صحیح البخاری الجمعۃ باب فرض الجمعۃ حدیث 876 وصحیح مسلم الجمعۃ باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ حدیث 855۔ [3] ۔صحیح مسلم الجمعۃ باب ھدایۃ ھذہ الامۃ لیوم الجمعۃ حدیث 856۔