کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 211
(18)۔یہ تمام صورتیں تب اختیار کی جائیں جب جنگ جاری نہ ہو۔اگرجنگ جاری ہو،تندوتیزحملے ہورہے ہوں،شمشیر وسناں کا عام استعمال ہورہاہو اور نماز خوف کی مذکورہ صورتوں میں سے کوئی بھی ممکن نہ ہو،نماز کا وقت بھی ہوچکا ہوتو حسب حال جیسے بھی ممکن ہو،کوئی سوار ہویا پیدل،کسی کا قبلہ کی طرف رخ ہویانہ ہونماز ادا کرلیں۔رکوع اورسجدے کے لیے حسب طاقت اشاروں سے کام لیں لیکن تاخیر نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا " "پھر اگرتمھیں خوف ہوتوپیدل ہی سہی یا سواری سہی۔"[1] (19)۔بہتر یہ ہے کہ نماز خوف میں مسلمان دفاع کے لیے ضرورت کے مطابق ہلکا پھلکا اسلحہ ضرور اٹھا کررکھیں۔اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَلْيَأْخُذُوا أَسْلِحَتَهُمْ" "اور وه اپنے ہتھیار لیے رہیں۔"[2] (20)۔اگر کوئی شخص دشمن یا سیلاب یا درندے سے جان بچانے کے لیے بھاگ رہا ہویا کوئی مجاہد د شمن کے تعاقب میں ہو اور اس کے نکل جانے کا ڈر ہوتو وہ بھی سوار ہویا پیدل،اسی حالت میں نماز ادا کرلے،قبلہ کی طرف رخ ہویانہ ہو،رکوع اور سجدہ کے لیے مناسب حال اشارہ کرلے۔ نماز خوف کی ان عجیب وغریب صورتوں اور اس دقیق منصوبہ بندی سے اسلام میں نماز کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے۔اسی طرح نماز باجماعت کی اہمیت بھی نمایاں ہوتی ہے کہ ان مشکل حالات میں بھی دونوں چیزیں معاف نہ ہوئیں۔اس سے شریعت اسلامیہ کے کمال کا بھی ہمیں علم ہوتا ہے کہ اس کے احکام کس قدر مناسب حال ہیں کہ امت کو تنگی ومشکل میں بھی نہیں ڈالا گیا۔یقیناً یہی شریعت ہرزمان ومکان کے لیے اپنے اندر خیر واصلاح کاایک کامل نظام رکھتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر عمل کرنے کی توفیق دے اور اسی پر زندگی کا خاتمہ کرے۔بے شک وہ دعا کو سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ نماز جمعہ کے احکام جمعہ کے معنی"اکھٹا ہونے"کے ہیں۔چونکہ اس روز مساجد میں بہت سے لوگ جمع اور اکھٹے ہوتے ہیں،اس لیے اس روز کو"جمعہ"کہتے ہیں۔یہ دن سات دنوں میں سب سے افضل دن ہے،چنانچہ ایک روایت ہےکہ [1] ۔البقرۃ 2/239۔ [2] ۔النساء:4/102۔