کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 206
"وإن قويت على أن تؤخري الظهر وتعجلي العصر فتغتسلين، ثم تصلين الظهر والعصر جمیعا، ثم تؤخرين المغرب وتعجلين العشاء ثم تغتسلين وتجمعين بين الصلاتين فافعلي " "اگر تجھ میں طاقت ہوتو ظہر کو مؤخر کر اور عصر میں جلدی کر،پھر غسل کرکے ظہر اور عصر کو جمع کرکے پڑھ لے،اسی طرح تو مغرب کو لیٹ کراور عشاء میں جلدی کر،پھر غسل کرکے دونوں نمازیں جمع کرکے پڑھ لے۔"[1] (11)۔جب اس قدر بارش ہو کہ کپڑے بھیگ جائیں اور مسجد میں آنے والے جانے میں مشقت ہوتو مغرب اور عشاء کو جمع کرکے ادا کرنا جائز ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بارش کی رات مغرب اور عشاء کو جمع کرکے پڑھا تھا۔اسی طرح سیدنا ابوبکر اور سید فاروق اعظم رضی اللہ عنہما نے بھی کیا تھا۔[2] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اگرچہ بارش رک چکی ہو لیکن بہت زیادہ کیچڑ ہو یا تاریک رات میں شدید ٹھنڈی ہوا چل رہی ہو یا اس قسم کی کوئی اور تکلیف دہ صورت حال ہوتو نمازیں جمع کرنی جائز ہیں اور یہ گھر میں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے کیونکہ گھروں میں نماز پڑھنے سے ترک جماعت لازم آتی ہے جو بدعت ہے اور خلاف سنت ہے۔جبکہ سنت یہ ہے کہ نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کی جائے اور یہ گھرمیں نماز ادا کرنے سے بہتر ہے اور اس پر مسلمانوں کا اتفاق ہے ۔لہذا مسجد میں نمازوں کو جمع کرلینا گھروں میں نماز ادا کرنے سے کہیں بہتر اور افضل ہے۔اس پر ائمہ کرام کا اجماع ہے جو جمع بین الصلاتین کے قائل ہیں،ان میں امام مالک رحمۃ اللہ علیہ ،شافعی رحمۃ اللہ علیہ اور احمد رحمۃ اللہ علیہ معروف ہیں۔"[3] (12)۔جس شخص کے لیے نمازوں کو جمع کرنا جائز ہے اس کے حق میں افضل صورت دہ ہے جوموقع ومحل کے مناسب ہو وہ جمع تاخیر کی صورت ہویا جمع تقدیم کی۔مقام عرفہ میں ظہر اور عصر کی نمازوں میں جمع تقدیم افضل ہے جب کہ مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں میں جمع تاخیر والی صورت افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفہ میں ظہر کے فورا بعد وقوف کرنا تھا،اس لیے عصر کو مقدم کرلیا جب کہ غروب آفتاب کے فوراً بعد مزدلفہ کی طرف روانہ ہوناتھا،اس لیے مغرب کو مؤخر کرلیا۔الغرض! عرفہ اور مزدلفہ میں دو دو نمازیں جمع کرنا مسنون ہے۔اور دیگر مقامات میں بوقت ضرورت جائز ہے۔ [1] ۔سنن ابی داود، الطھارۃ، باب اذا اقبلت الحیضۃ تدع الصلاۃ ،حدیث 287 ومسند احمد 5/439 واللفظ لہ۔ [2] ۔یہ روایات ہمیں نہیں ملیں۔(ع۔و)۔ [3] ۔مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ : 24/29۔30۔