کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 202
جائے ۔اس طرح طبیعت کے مطابق نئی صورت اپنالے۔ (2)۔اگر مریض میں کھڑا ہونے اور بیٹھنے کی طاقت ہے لیکن وہ رکوع یا سجدہ کرنے پر قدرت نہیں رکھتا تو وہ کھڑا کھڑا سرجھکا کر اشارے سے رکوع کرے اور پھر بیٹھ کر سرکے اشارے سے سجدہ کرے،تاکہ حسب امکان دونوں اشاروں میں فرق ہوجائے۔ (3)۔اگر کوئی مریض کھڑا ہوکرنماز ادا کرسکتا ہے لیکن کسی قابل اعتماد مسلمان ڈاکٹر کااسے مشورہ یہ ہے کہ وہ لیٹ کر نماز پڑھے ورنہ اس کا علاج یا افاقہ ممکن نہیں تو وہ شخص لیٹ کر نماز ادا کرے کیونکہ ایک مرتبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پہلو میں خراش آگئی تھی تو آپ نے بیٹھ کر ہی نماز ادا کی تھی۔[1] اسی طرح سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہانے آنکھوں کی تکلیف کی وجہ سے زمین پر سجدہ کرنا چھوڑدیاتھا۔[2] اسلام میں نماز کا ایک بہت بڑا مقام ہے،ہرمسلمان پر فرض ہے کہ وہ حالت صحت اور حالت مرض میں حسب طاقت نماز قائم کرے۔مریض کو نماز معاف نہیں لیکن وہ حسب حال اسے ادا کرے۔ہرمسلمان پرفرض ہے کہ نماز کی اسی طرح حفاظت کرے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جس میں اس کی محبت اور رضا ہو۔آمین 2۔سوارشخص کی نماز:وہ شخص بھی اہل عذر میں شامل ہے جو حالت سفر میں کسی چیزیا جانور پر سوار ہواورزمین پر کیچڑ یا بارش ہونے کی وجہ سے سواری سے اتر کر نماز پڑھنے میں اسے مشکل اور تکلیف محسوس ہویاسواری سےاترنے کے بعد دوبارہ سوار ہونے سے عاجز ہو یا سواری سے اترنے کی وجہ سے ساتھیوں سے بچھڑ جانے کا ڈر ہو یا اترنے کی صورت میں دشمن یادرندے کا خوف ہوتو ان حالات میں وہ سواری وغیرہ ہی پر نماز ادا کرلے،زمین پراتر کر نماز پڑھنا ضروری نہیں۔ سیدنا یعلیٰ بن مرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "أَنَّ النَّبيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ انتَهَى إِلى مَضِيقٍ هُوَ وَأَصْحَابُهُ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ ، وَالسَّمَاءُ مِنْ فَوْقِهِمْ ، وَالبِلَّةُ مِنْ أَسْفَلَ مِنْهُم ، فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ ، فَأَمَرَ المُؤَذِّنَ فَأَذَّنَ وَأَقَامَ، ثُمَّ تَقَدَّمَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَاحِلَتِهِ فَصَلَّى بِهِم ، يُومِئُ إِيماءً ؛ يَجْعَلُ السُّجُودَ أَخْفَضَ مِنَ الرُّكُوعِ" [1] ۔صحیح البخاری، الاذان، باب انما جعل الامام لیؤتم بہ، حدیث: 689۔ [2] ۔ مطالب اولی النھی شرح غایۃ المنتھی باب صلاۃ اھل الاعذار: 4/29۔