کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 199
پر نماز ادا نہ کرسکتا ہو۔شارع نے ایسے افراد کو خصوصی رعایت دی ہے اور ان سے یہ مطالبہ کیاہے کہ وہ حسب استطاعت نماز اداکریں۔یہ شریعت کی طرف سے ان کے لیے آسانی اور سہولت ہے تاکہ انھیں تنگی وتکلیف نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کاارشاد ہے: "وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ " "اور اس نے تم پر دین کے بارے میں کوئی تنگی نہیں کی۔"[1] ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا: "يُرِيدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ""اللہ کاارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے ،سختی کانہیں۔"[2] ایک اور جگہ ارشادہے: "لا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا إِلا وُسْعَهَا" "اللہ کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔"[3] نیز فرمایا: "فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ ""چنانچہ جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔" [4] رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا أَمَرْتُكُمْ بِشَيْءٍ فَأْتُوا مِنْهُ مَا اسْتَطَعْتُمْ" "جب میں تمھیں کوئی حکم دوں تو حسب طاقت اس پر عمل کرو۔"[5] مذكوره نصوص شرعیہ کے علاوہ اور بھی بہت سے دلائل ہیں جن میں بندوں پر اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور ان پر شریعت میں آسانی وسہولت کا تذکرہ ہے۔ شریعت میں جو آسانیاں اور سہولتیں ہیں،ان میں سے بعض کا تعلق ہمارے زیر بحث عنوان سے بھی ہے،اگر کسی شخص کومرض،سفر یا خوف کا عذر لاحق ہوتو وہ کیسے نماز ادا کرے؟لیجئے اس کی تفصیل ملاحظہ فرمائیے: 1۔مریض کی نماز:نماز کبھی نہ چھوڑی جائے،اگر مریض ہے اور وہ کھڑا ہونے کی طاقت رکھتا ہے تو کھڑے ہوکرنماز ادا کرنا اس پر لازم ہے،اگر وہ کھڑا ہونے کے لیے لاٹھی وغیرہ کا سہارا لے لے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ اگر واجب کی ادائیگی کسی سہارے کے ساتھ ممکن ہوتو اس کا استعمال واجب ہے۔ (1)۔اگر مریض شخص نماز میں کھڑا ہونے کی طاقت نہ رکھتا ہو یا اسے کھڑا ہونے سے تکلیف اور مشکل پیش آتی ہو،یا [1] ۔الحج 22/78۔ [2] ۔البقرۃ 2/185۔ [3] ۔البقرۃ 2/286۔ [4] ۔التغابن:64۔16۔ [5] ۔ صحیح مسلم، الحج، باب فرض الحج مرۃ فی العمر ،حدیث 1337۔