کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 196
اس مسئلہ کی تائید قرآن مجید کی اس آیت سے بھی ہوتی ہے: "وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا" "اور ہمیں پر ہیز گاروں کا پیشوا بنا۔"[1] جس شخص پر امامت کی ذمہ داری عائد ہو اسے چاہیے کہ اسے پوری اہمیت دے۔ حسب استطاعت اس کا حق ادا کرے تو یقیناً اس کے لیے اس میں اجر عظیم ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے درج ذیل فرمان پر عمل کرتے ہوئے مقتدیوں کے انفرادی اور اجتماعی حالات کا خیال رکھے۔ انھیں پر یشانی اور مشکل میں نہ ڈالے، انھیں اپنی طرف راغب کرے متنفرنہ کرے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إذا صلى أحدكم للناس فليخفف ،فإن فیهم الضعيف والسقيم والكبير وإذا صلى أحدكم لنفسه فليطول ما شاء" "جب کوئی لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ نماز میں تخفیف کرے کیونکہ ان میں بیمار، ضعیف اور حاجت مند بھی ہوتے ہیں اور جب وہ اکیلا نماز پڑھے تو حسب منشا نماز لمبی کرے۔"[2] صحیحین میں سیدنا ابو مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان یوں ہے: "يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ مِنْكُمْ مُنَفِّرِينَ , فَمَنْ أَمَّ النَّاسَ فَلْيَتَجَوَّزْ ؛ فَإِنَّ خَلْفَهُ الضَّعِيفَ وَالْكَبِيرَ وَذَا الْحَاجَةِ " "اے لوگو !تم میں سے بعض لوگ نفرت پیدا کرتے ہیں جو شخص لوگوں کی امامت کرائے وہ اختصار سے کام لے کیونکہ ان میں ضعیف بوڑھے اور ضرورت مند ہوتے ہیں۔"[3] ایک صحابی کا بیان ہے: "مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ إِمَامٍ قَطُّ أَخَفَّ صَلَاةً وَلَا أَتَمَّ مِنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے جس قدر مختصر اور مکمل نماز پڑھی ایسی نماز کسی اور کے پیچھے نہیں پڑھی۔"[4] جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی ہمارے لیے نماز وغیرہ میں نمونہ ہیں۔ [1] ۔الفرقان:25۔74۔ [2] ۔صحیح البخاری، الاذان، باب اذا صلی لنفسہ فلیطول ما شاء، حدیث703۔ وصحیح مسلم، الصلاۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلاۃ فی تمام ،حدیث:467۔وسنن ابی داؤد، حدیث 794۔795۔ [3] ۔صحیح البخاری ،الاذان، باب من شکا امامہ اذا طول ،حدیث 704وصحیح مسلم، الصلاۃ ،باب امر الائمۃ بتخفیف الصلاۃ فی تمام، حدیث:466۔ [4] ۔صحیح البخاری الاذان باب من اخف الصلاۃ عند بکاء الصبی حدیث708۔وصحیح مسلم ،الصلاۃ، باب امر الائمۃ بتخفیف الصلاۃ فی تمام، حدیث:469۔