کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 195
وَمَن ذا الَّذي تُرضى سَجاياهُ كُلُّها كَفى المَرءَ نُبلاً أَن تُعَدَّ مَعايِبُهْ "بھلا ایسا کوئی شخص ہے جس کی تمام عادات واطوار سے ہر شخص خوش ہو، کسی شخص کے بڑا ہونے کے لیے یہی بات کافی ہے کہ اس کے عیوب شمار کر لیے جائیں۔" ہم اللہ تعالیٰ سے ہدایت اور توفیق خیر کی دعا کرتے ہیں۔ امام کی ذمہ داریاں امام ضامن ہے ،لہٰذا نماز سے متعلق اس پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اگر وہ اپنی ذمہ داری کو خوش اسلوبی سے نبھاتا ہے تو اس کے نصیب میں بہت بڑی بھلائی ہے۔ امامت کی فضیلت و عظمت لوگوں کے ہاں مشہور معروف امر ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے قبول کیا اور اس کے لیے بہترین افراد کو منتخب کیا۔ حدیث نبوی میں ہے: ثلاثة على كثبان المسك ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ورجل أمَّ قوما وهم له راضون "روز قیامت تین آدمی کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے۔ ایک وہ شخص جو قوم کا امام رہا اور وہ اس پر خوش تھے۔"[1] ایک روایت میں ہے: " له مثل أجر من صلى معه" "امام کو اس قدر اجر ملے گا جس قدر اس کے پیچھے نماز ادا کرنے والے سب مقتدیوں کو ملے گا۔"[2] جو شخص اپنے آپ کو امامت کے لائق سمجھتا ہو تو وہ اس ذمہ داری کو خود طلب کر سکتا ہے چنانچہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: "اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي ، قَالَ : " أَنْتَ إِمَامُهُمْ ، وَاقْتَدِ بِأَضْعَفِهِمْ " "مجھے میری قوم کا امام مقرر کر دیجیے ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: آج سے تو ان کا امام ہے، کمزوروں کا خیال رکھنا۔"[3] [1] ۔(ضعیف) جامع الترمذی، البرو الصلہ باب ماجاء فی فضل المملوک الصالح، حدیث:1986۔ [2] ۔سنن النسائی، الاذان باب رفع الصوت بالاذان ،حدیث 647۔ومسند احمد:4/284۔ [3] ۔سنن ابی داؤد ،الصلاۃ، باب اخذ الاجر علی التاذین، حدیث 531۔