کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 194
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"اس امام کی نماز قبول نہیں ہوتی جسے لوگ اس کی دینی کمزوریوں کی وجہ سے ناپسند کرتے ہوں، مثلاً:اس کا جھوٹ بولنا یا کسی پر ظلم کرنا یا اس کا جاہل ہونا یا اس کا بدعتی ہونا۔ اگر وہاں کوئی ایسا شخص موجود ہو جو دینی اعتبار سے مقرر امام سے بہتر اور اچھا ہو۔ مثلاً:سچا ہو، عادل ہو یا عالم ہو یا دین کے علم وعمل میں زیادہ پختہ ہو تو پہلے کو امامت سے معزول کر کے پسند یدہ شخص کو امام مقرر کرنا ضروری ہے بلکہ مناسب یہ ہے کہ وہ خود ہی عہدہ امامت سے الگ ہو جائے ورنہ اس کی اپنی نماز قبول نہ ہو گی جیسا کہ حدیث میں ہے:"تین شخص ایسے ہیں کہ ان کی نماز ان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی، ایک وہ امام جس کے مقتدی اسے ناپسند کرتے ہوں دوسرا وہ شخص جو نماز کا وقت گزار کر پڑھے اور تیسرا وہ جس نے کسی آزاد آدمی کو غلام بنالیا۔"[1] آگے چل کر شیخ الاسلام رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں :"اگر کسی امام اور اس کے مقتدیوں کے درمیان شدید مسلکی اختلاف موجود ہو تو وہ ان کی امامت نہ کرائے کیونکہ نماز باجماعت کا مقصد لوگوں میں پیار و محبت پیدا کر کے انھیں جوڑنا ہے توڑنا نہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادہے: "لَا تَخْتَلِفُوا فَتَخْتَلِفَ قُلُوبُكُمْ" "نماز میں ایک دوسرے سے ہٹ کر(یا آگے پیچھے)کھڑے نہ ہوا کرو۔ورنہ تمہارے دلوں میں اختلاف پیدا ہو جائے گا۔"[2] البتہ اگر امام متدین ہو، یعنی کتاب وسنت کا حامل و عامل ہو اور لوگ اسی وجہ سے اسے ناپسند کرتے ہوں تو اس امام کے حق میں امامت مکروہ نہیں ہے، غلطی اس کی ہے جو اسے ناپسند کرے۔ بہر حال امام اور مقتدیوں کے درمیان محبت و پیار کی فضا ضروری ہے تاکہ نیکی و تقوی میں باہم تعاون ہو۔خواہش پرستی اور شیطانی اغراض کے اتباع میں اگر کینہ وبغض پیدا ہو گیا ہو تو اسے ختم کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ امام کی ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے مقتدیوں کے حقوق کا خیال رکھے ان کو مشکل میں نہ ڈالے، ان کے جائز مطالبات کا احترام کرے۔اسی طرح مقتدیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امام کے حقوق کا خیال رکھیں اور اس کا نہایت احترام اور عزت کریں۔ ہر انسان سے بھول چوک اور کمی و کوتاہی ہو ہی جاتی ہے، اس لیے ایک دوسرے کو برداشت کرنا چاہیے اور ایسی معمولی کمزوری سے صرف نظر کرنا چاہیے جس سے دین ومروت میں خلل پیدا نہ ہوتا ہو۔ [1] ۔سنن ابی داؤد ،الصلاۃ، باب الرجل یؤم القوم وھم لہ کارھون ،حدیث593۔ومجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 23/373۔ [2] ۔صحیح مسلم، الصلاۃ ،باب تسویۃ الصفوف واقامتھا حدیث :432۔