کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 193
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:" جب کوئی جنبی شخص لوگوں کو نماز پڑھائے تو وہ دوبارہ نماز پڑھے جبکہ مقتدی کی نماز مکمل اور صحیح ہے۔"[1] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"خلفائے راشدین کا یہ طریقہ تھا کہ وہ لوگوں کو نمازیں پڑھاتے، نماز کے بعد کبھی جنابت کے اثرات دیکھتے تو خود نماز کا اعادہ کر لیتے ۔ باقی لوگوں کو نماز کے اعادے کا حکم نہ دیتے۔"[2] اگر امام یا مقتدی کو دوران نماز میں عدم طہارت یا نجاست کی موجودگی کا علم ہو جائے تو ہر ایک کی نماز باطل ہوگی۔ [3] ایسے ان پڑھ شخص کی امامت بھی درست نہیں جسے سورۂ فاتحہ بھی اچھی طرح حفظ نہ ہویا حفظ تو ہو لیکن بڑی فاش غلطیاں کرتا ہو۔ مثلاً:( إِيَّاكَ)کے کاف پر زیر پڑھے یا (أَنْعَمْتَ) کی تاپرپیش پڑھے۔(اهْدِنَا)کے ہمزہ پر زبر پڑھتا ہو۔ یا کسی حرف کو دوسرے حرف سے بدل دے ،مثلاً:"را"کو"غین"یا "لام " پڑھے۔یاسین کوتا یا(شین)پڑھتا ہو۔ ان پڑھ امام کی امامت اس جیسے ان پڑھ لوگوں کے سواکسی اور کے لیے درست نہیں جبکہ وہ اس کی اصلاح نہ کر سکتے ہوں کیونکہ دونوں فریق مساوی ہیں۔ اگر ایسا ان پڑھ شخص الفاظ (قراءت) کی اصلاح کر سکتا ہو لیکن وہ کوشش ہی نہ کرے تو نہ اس کی نماز درست ہے اور نہ اس کے پیچھے ادا کرنے والے کی نماز صحیح ہے کیونکہ وہ قدرت کے باوجود ایک رکن (قراءت ) کا تارک ہے۔ جس شخص سے اکثر لوگوں کی ناراضی درست ہو اس کی امامت مکروہ ہے، یعنی اگر لوگ کسی کی امامت کو کسی معقول وجہ کی بنیاد پر ناپسند کرتے ہوں۔مثلاً:اس میں دینی کمزوریاں ہوں تو ایسے شخص کا امامت کرانا مکروہ عمل ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "ثَلَاثَةٌ لَا تُجَاوِزُ صَلَاتُهُمْ آذَانَهُمْ: الْعَبْدُ الْآبِقُ حَتَّى يَرْجِعَ ،وَامْرَأَةٌ بَاتَتْ وَزَوْجُهَا عَلَيْهَا سَاخِطٌ، وَإِمَامُ قَوْمٍ وَهُمْ لَهُ كَارِهُونَ" "تین شخص ایسے ہیں کہ ان کی نمازان کے کانوں سے اوپر نہیں جاتی: بھاگنے والا غلام جب تک وہ واپس نہ لوٹ آئے اور وہ عورت جو اس حال میں رات گزارے کہ اس کا خاوند اس پر ناراض ہو اور کسی قوم کا امام جسے وہ ناپسند کرتے ہوں۔" [4] [1] ۔(ضعیف جداً) سنن الدارقطنی 1/362۔363۔حدیث 1352۔1353۔ [2] ۔سنن الدارقطنی: 1/363۔حدیث :1356۔1357۔مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 23/369۔ [3] ۔بعض علماء کی رائے کے مطابق مقتدیوں کی نماز باطل نہ ہو گی، باقی رہا امام تو وہ کسی کو اپنا نائب بنا دے جو نماز مکمل کرائے اور خود الگ ہو جائے۔" [4] ۔جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی من ام قوما وھم لہ کارھون، حدیث :360۔