کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 191
ارشاد ہے: "يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِن جَاءَكُمْ فَاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَيَّنُوا " "اے مسلمانو! اگر تمھیں کوئی فاسق خبر دے تو تم اس کی اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو۔"[1] اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی روشنی میں نماز کی شرائط اور اس کے احکام میں فاسق شخص پر قطعاً اعتماد و یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ وہ دوسروں کے لیے بری مثال بن جائے گا، لہٰذا دینی امور میں سے اسے ذمہ داری دینے میں بہت سی قباحتیں اور خرابیاں پنہاں ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لا تَؤُمَّنَّ امْرَأَةٌ رَجُلاً وَلا يَؤُمَّ أَعْرَابِيٌّ مُهَاجِرًا وَلا يَؤُمَّ فَاجِرٌ مُؤْمِنًا إِلا أَنْ يَقْهَرَهُ بِسُلْطَانٍ يَخَافُ سَيْفَهُ وَسَوْطَهُ " "کوئی عورت مرد کی، اعرابی مہاجر کی اور فاجر شخص مومن کی امامت نہ کرائے، سوائے اس کے کہ وہ اسے اپنے قوت و غلبہ سے مجبور کردے۔ اور اس کی طرف سے ظلم و زیادتی کا خوف ہو۔"[2] حدیث کے الفاظ "فاجر شخص مومن کی امامت نہ کرائے ،"محل شاہد ہے اور حق سے کنارہ کشی کرنے کا نام فجور ہے۔ فاسق کے پیچھے نماز ادا کرنا ممنوع ہے، لہٰذا قوت و قدرت کے ہوتے ہوئے اسے امام بنانا قطعاً جائز نہیں ۔اسلامی حکومت کے ذمہ دار ان اس بات کا خیال رکھیں کہ وہ کسی فاسق شخص کو نمازوں کا امام مقرر نہ کریں کیونکہ انھیں حکم ہے کہ وہ لوگوں کی مصلحتوں پر توجہ دیں اور عوام کو اس غلطی کے ارتکاب پر مجبور نہ کریں کہ وہ فاسق کے پیچھے کھڑے ہو کر ایسی نماز ادا کریں جو انھیں خود ناپسند ہو۔ فاسق کے پیچھے پڑھی گئی نماز کی صحت میں بھی علماء کا اختلاف ہے جس کا یہ حال ہو اس سے بہر حال لوگوں کو بچانا چاہیے۔ جو شخص رکوع سجدہ کرنے یا بیٹھنے سے عاجز ہو اس کو امام بنانا درست نہیں الایہ کہ مقتدی بھی رکن و شرط ادا کرنے سے(امام کی طرح )عاجز ہوں۔ اسی طرح کھڑا ہونے سے عاجز شخص کا تندرست شخص کی امامت کرانا صحیح نہیں الایہ کہ وہ اہل مسجد کا مقرر کردہ امام ہو اور اس کی اس بیماری کے بارے میں تندرستی اور صحت کی امید ہوتو اس کی اقتدا میں نماز جائز ہے۔ اس صورت حال میں تمام مقتدی بیٹھ کر ہی نماز ادا کریں گے۔ اس بارے میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے: [1] ۔الحجرات69/6۔ [2] ۔(ضعیف) سنن ابن ماجہ ،اقامۃ الصلوات ،باب فی فرض الجمعۃ، حدیث:1081۔