کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 19
عَلَيْهِمْ)سے مراد یہود ہیں۔اور (الضَّالِّينَ)سے مراد نصاریٰ ہیں تو جاہل لوگ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ (الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ)صرف یہود ہی تھے اور (الضَّالِّينَ)صرف نصاریٰ ہی تھے، کوئی اور نہیں ہو سکتا ،حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر فرض کیا ہے کہ وہ راہ حق پر چلنے کی دعا کرتے ہیں اور بری صفات رکھنے والے کی راہ سے پناہ مانگتے رہیں۔اللہ تعالیٰ کی شان رحمت دیکھیے وہ کس طرح انسان کو تعلیم دے رہا اور اس پر فرض کر رہا ہے کہ وہ یہ دعا ہمیشہ اور بار بار کرتا رہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی خطرہ نہیں کہ وہ اسے ہدایت پر قائم نہیں رکھے گا۔ اور یہ تصور بھی نہیں کیا جا سکتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے کسی بدگمانی کی بنا پر یہ درخواست کر رہا ہے۔" فرض اور نفل نماز کی ہر رکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھنے کی فرضیت میں بہت سی حکمتیں پنہاں ہیں۔ ان اسرار و رموز میں ایک اہم چیز یہ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم علم نافع اور عمل صالح سے آراستہ و پیرا ستہ لوگوں کے نقش قدم پر چلیں جو دنیا و آخرت میں نجات کا راستہ ہے اور وہ ہمیں ہلاک وبرباد ہونے والوں کے طور طریقوں سے محفوظ رکھے جنھوں نے علم نافع اور عمل صالح کے حصول میں کو تاہی کی۔ جان لیجیے!علم دین اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کتاب و سنت کو صحیح طریقے سے سمجھا جائے اور اس پر غور وفکر کیا جائے اور مخلص اساتذہ کی رہنمائی میں کتب تفسیر شروحات حدیث کتب فقہ اور کتب نحو و صرف کا مطالعہ ہو۔ عربی زبان ،جس میں قرآن مجید نازل ہوا ہے،سے واقفیت ہو۔کتاب وسنت کو سمجھنے کے لیے یہی مفید ذرائع ہیں۔ میرے مسلمان بھائیو! آپ کا فرض ہے کہ اپنے اعمال کی اصلاح کے لیے وہ علم حاصل کریں جس سے آپ کے دینی امور یعنی نماز، روزہ، اور حج وغیرہ کی ادائیگی درست ہو۔زکاۃ کے مسائل سیکھیں ۔ ان معاملات کے مسائل کا علم حاصل کریں۔ جو زندگی میں پیش آتے ہیں تاکہ آپ مباح کو اختیارکر سکیں اور حرام سے بچ سکیں۔ آپ کی کمائی حلال ہو۔ آپ کی خوراک حلال و پاک ہو تا کہ آپ کی دعائیں قبول ہوں۔ یادرکھیے!یہ وہ امور ہیں جن کا علم حاصل کرنے کی آپ کو اشد ضرورت ہے۔ اللہ کی توفیق سے یہ نہایت آسان ہے بشرطیکہ آپ کا عزم وارادہ پختہ اور نیت خالص ہو۔ میرے بھائیو! مفید کتب کے مطالعے کا شوق پیدا کیجیے۔ اہل علم سے رابطہ رکھیے تاکہ آپ مشکل مسائل کا حل معلوم کر سکیں اور دینی مسائل میں ان سے رہنمائی لے سکیں ۔ ان دینی پروگراموں اور لیکچروں میں شرکت کیجیے جو مساجد وغیرہ میں منعقد ہوتے ہیں۔ مزید برآں ریڈیو وغیرہ سے اسلامی نشریات سننے کا اہتمام کیجیے ۔ اسلامی رسائل پڑھیے ۔ مجھے یقین ہے کہ جب آپ مذکورہ علمی ذرائع میں دلچسپی لیں گے تو آپ کی دینی اسلامی معلومات میں اضافہ ہو گا اور عقل و بصیرت میں مزید نکھار آئے گا۔