کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 189
اگرچہ ان حاضرین میں افضل شخص بھی کیوں نہ ہواور وہ یہ ہیں: 1۔مسجد کا مقرر امام (بشرطیکہ وہ امامت کی اہلیت رکھتا ہو)موجود ہو تو کسی دوسرے شخص کے لیے لائق نہیں کہ وہ مصلیٰ امامت پر کھڑا ہو اگرچہ وہ امام سے افضل ہی کیوں نہ ہو، الایہ کہ وہ اسے اجازت دے دے۔ 2۔گھر کا مالک اگر اہلیت رکھتا ہو تو امامت کے مصلے پر کھڑے ہونا اسی کا حق ہے مگر یہ کہ وہ کسی دوسرے کو اجازت دے دے۔ 3۔ سلطان، یعنی ملک کا سر براہ یا اس کا نائب موجود ہو تو امامت کے موقع پر وہی مقدم ہوگا بشرطیکہ اس میں امامت کی اہلیت ہو مگر یہ کہ وہ کسی اور کو امامت کرنے کی اجازت دے دے۔ ان حضرات کی امامت کے استحقاق میں دلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: "وَلَا يُؤَمُّ الرَّجُلُ فِي سُلْطَانِهِ وَلَا يُجْلَسُ عَلَى تَكْرِمَتِهِ فِي بَيْتِهِ إِلَّا بِإِذْنِهِ" "تو کسی شخص کا اس کے گھر میں امام نہ بن اور نہ کسی سلطان کی سلطنت میں امامت کرا۔ اور نہ اس کے گھر میں اس کی عزت کی جگہ پر بیٹھ مگر اس کی اجازت کے ساتھ۔"[1] امام خطابی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا مطلب یہ ہے کہ مالک مکان امامت کا زیادہ حق دار ہے اگر وہ قراءت قرآن اور دینی علم رکھتا ہے۔"[2] اسی طرح سلطان کا مقرر کردہ امام یا اس کا نائب یا اہل مسجد جس کی امامت پر متفق ہوں تو امامت میں اس کا زیادہ حق ہے کیونکہ یہ خاص عہدہ ہے۔ ان حضرات کی موجود گی میں کسی دوسرے کا امامت کے مصلیٰ پر کھڑا ہونا بد گمانی اور نفرت کا باعث ہے۔ گزشتہ بحث سے نماز کی امامت کا شرف و فضیلت اور اسلام میں اس کا مقام و مرتبہ واضح ہو جاتا ہے۔ علاوہ ازیں نماز کا امام (دورکعت کا امام نہیں بلکہ وہ)دینی قائد ہوتا ہے۔ امامت ایک بلند مرتبہ ہے، خیر و نیکی کی جانب مسابقت کا ذریعہ ہے۔ امام امیر کی اطاعت کرنے اور جماعت کے ساتھ وابستہ رہنے کے لیے معاون ہے۔ امامت کی بدولت اللہ تعالیٰ کی مساجد آباد ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ کے فرمان کے عموم میں(جس میں اللہ کے بندوں کی دعا کا ذکر ہے)یہ مضمون بھی موجود ہے، چنانچہ ارشاد ربانی ہے: [1] ۔صحیح مسلم ،المساجد، باب من احق بالامامۃ ؟ حدیث :673وسنن ابی داؤد الصلاۃ باب من احق بالامامۃ، حدیث :582۔ [2] ۔معالم السنن ،شرح سنن ابی داؤد للامام الخطابی 1/145تحت حدیث 190۔