کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 187
سے محروم رکھنے کی کوشش ہے۔ ان طلباء کو چاہیے کہ وہ کوشش سے اور خوشی کے ساتھ اس ذمہ داری کو قبول کریں اور اللہ تعالیٰ سے اجر عظیم حاصل کریں۔ دینی طلباء دوسرے لوگوں کی نسبت امامت اور دیگر اعمال صالحہ کے زیادہ لائق ہیں۔ جب ایک شخص میں امامت کی اہلیت کی تمام خوبیاں موجود ہیں تو وہ دوسروں کی نسبت امامت کے زیادہ لائق ہے بلکہ دوسرا اہل شخص موجود نہ ہونے کی صورت میں اس کے لیے یہ فرض انجام دینا ضرورہو جاتا ہے۔ امامت کی اہلیت اور ترتیب : (1)امامت کا حق دار وہ ہے جو دوسروں سے بہتر انداز میں قرآن مجید کی قراءت کر سکتا ہو۔ مخارج حروف سے واقف ہو حروف کی ادائیگی میں فاش غلطیاں نہ کرتا ہو۔ تلاوت قرآن میں کسی تکلف و تصنع کے بغیر قواعد قراءت کو ملحوظ رکھتا ہو۔ علاوہ ازیں نماز کے مسائل ،شرائط، ارکان ،واجبات اور نواقض نماز کا علم رکھتا ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "يَؤُمُّ الْقَوْمَ أَقْرَؤُهُمْ لِكِتَابِ اللّٰهِ" "لوگوں کی امامت وہ کرائے جو سب سے زیادہ قرآن مجید پڑھا ہو۔"[1] امامت کے بارے میں جو احادیث آتی ہیں ان سے واضح ہوتا ہے کہ امامت میں مقدم وہ ہو گا جو قرآن مجید اچھے اور بہتر انداز میں پڑھتا ہو اور نماز کے مسائل سے واقف ہو۔ واضح رہے عہد نبوی میں جو شخص قرآن مجید زیادہ پڑھا ہوتا وہ دینی مسائل میں فقیہ بھی زیادہ ہوتا تھا۔ 2۔اگر قرآن مجید کی قراءت میں سب برابر ہوں تو اس شخص کو آگے کیا جائے جو دینی مسائل سے زیادہ واقف ہو کیونکہ ایسے شخص میں قراءت قرآن اور فقہ دین دو خوبیاں جمع ہو گئی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "فَإِنْ كَانُوا فِي الْقِرَاءَةِ سَوَاءً فَأَعْلَمُهُمْ بِالسُّنَّةِ" "اگر قراءت قرآن میں برابر ہوں تو سنت ،یعنی علم دین کا زیادہ عالم ہے وہ امامت کا مستحق ہے۔"[2] اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نمازی کو قراءت کی نسبت دینی مسائل کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے، نیز نماز سے قراءت کا تعلق محدود ہے جب کہ نماز میں پیش آنے والے عوارض غیر محدود ہیں۔ 3۔ اگر وہ سب قراءت و فقہ میں برابر ہوں تو ہجرت جس کی قدیم ہوگی اس کو امامت کے لیے مقدم کیا جائے گا۔ [1] ۔صحیح مسلم، الصلاۃ ، باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔ وصحیح البخاری، الاذان، باب امامۃ العبدوالمولی ،قبل حدیث 692۔ [2] ۔صحیح مسلم ،المساجد، باب من احق بالامامۃ؟ حدیث :673۔