کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 186
اے مسلمان عورت! اپنے دین کی تعلیم کو مضبوطی سے تھام لے، ان گمراہ کن لوگوں کے دھوکے میں نہ آنا جو تجھے عزت و کرامت کے اس اعلیٰ مقام و مرتبہ سے محروم کرنا چاہتے ہیں جو دین اسلام نے تجھے عطا کیا ہے۔ اسلام کے علاوہ اور کسی دین نے یہ مقام و مرتبہ عطا نہیں کیا۔ اور جو شخص اسلام کو چھوڑکر کوئی اور دین چاہے تو وہ اس سے ہر گز قبول نہ ہوگا اور وہ آخرت میں خسارہ اٹھانے والا ہو گا۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جن میں دنیا اور آخرت کی خیرو فلاح ہو۔ امامت کے احکام نماز کی امامت ایک اہم دینی ذمہ داری ہے جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انجام دیا اور پھر خلفائے راشدین نے بھی اس بار امامت کو اٹھایا اور خوش اسلوبی سے نبھایا۔ امامت کی فضیلت میں بہت سی احادیث وارد ہوئی ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" روزقیامت تین قسم کے آدمی کستوری کے ٹیلوں پر ہوں گے ان میں سے ایک وہ شخص ہو گا جس نے قوم کی امامت کی اور وہ اس (امام ) سے خوش تھے۔"[1] ایک دوسری روایت میں ہے: "له مثل أجر من صلى معه" "امام کو اس قدر اجر ملے گا جس قدر اس کے پیچھے نماز ادا کرنے والوں کو ملے گا۔"[2] بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخوست کیا کرتے تھے کہ: "اجْعَلْنِي إِمَامَ قَوْمِي"" مجھے میری قوم کا امام بنا دیجیے۔[3] اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ امامت کی فضیلت اور اجر سے واقف تھے۔ انتہائی افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہم اس دور میں بہت سے طلباء کو دیکھتے ہیں کہ وہ امامت کی ذمہ داری قبول کرنے میں رغبت اور شوق نہیں رکھتے بلکہ گریز اور کنارہ کشی کرتے ہیں۔اس کی وجہ محض سستی اور خیرمیں رغبت کی کمی ہے جو شیطان کی طرف سے نیکی [1] ۔(ضعیف) جامع الترمذی، البروالصلۃ ،باب ماجاء فی فضل المملوک الصالح، حدیث 1086۔ [2] ۔سنن النسائی، الاذان، باب رفع الصوت بالاذان، حدیث 647۔ومسند احمد :4/284۔ [3] ۔سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب اخذ الاجر علی التاذین ،حدیث 531۔