کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 185
آج کل بعض لوگ یہ نعرہ لے کر اٹھ کھڑے ہوئے ہیں کہ عورت کو گھر سے نکل کر معاشرے کے ہر شعبے میں مرد کے شانہ بشانہ کام کرنا چاہیے جیسا کہ مغربی ممالک میں یا مغربی تہذیب سے متاثرہ ممالک میں عورتوں کی صورت حال ہے۔ در حقیقت یہ لوگ فتنے کی طرف دعوت دے رہے ہیں اور عورت کو تباہی و شقاوت کے گہرے گڑھے کی طرف گھسیٹ رہے ہیں اور اس سے اس کی عزت و ناموس کی چادر چھین رہے ہیں، چنانچہ ہمار افرض ہے کہ ان لوگوں کے آگے ایک مضبوط دیوار کھڑی کر دیں حتی کہ وہ آگے نہ بڑھ سکیں اور اس دعوت جاہلیت میں استعمال ہونے والی زبانیں اور قلمیں روک دیں۔ یہ نہایت واضح اور نمایاں حقیقت ہے کہ آج مغرب یا مغرب کی تقلید کرنے والے ممالک میں عورت تباہی و بربادی کے جس گڑھے میں گر چکی ہے اور جس خوفناک دلدل میں پھنس چکی ہے اب اس پر اس کا سارا معاشرہ پریشانی و پشیمانی کے عالم میں سسک رہا ہے۔ ہمیں ان سے عبرت حاصل کرنی چاہیے عقل مند وہی ہوتا ہے جو دوسروں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔ ان لوگوں کے پاس اپنے دعوے کے حق میں کوئی دلیل نہیں، ہاں ! ان کا کہنا ہے کہ عورت کے کام نہ کرنے سے معاشرے کا نصف حصہ بیکار ہو جاتا ہے ، لہٰذا عورت کو مرد کے ساتھ میدان عمل میں برابر شریک ہونا چاہیے اور اس کو مرد کے دوش بدوش کام کرنا چاہیے۔ در حقیقت یہ لوگ کسی بھول میں ہیں یا بھولے پن کا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نادان بنے ہوئے ہیں کیونکہ عورت اپنے گھر میں رہ کر جو اہم کام سر انجام دے رہی ہے اور اپنے دائرہ میں رہ کر معاشرہ میں جو عظیم خدمت سر انجام دے رہی ہے وہ کام اس کے علاوہ اور کوئی نہیں کر سکتا ،نیز وہ کام اس کی خلقت سے مناسبت رکھتا ہے اور اس کی فطرت کے لیے موزوں ہے۔ وہ ایک بیوی ہے جو اپنے خاوند کے لیے باعث سکون ہے۔ وہ ایک ماں ہے جس کاکام بچے جننا ،انھیں دودھ پلانا اور بچوں کی تربیت کرنا ہے، اس نے گھر کے ہر کام کوٹھیک طریقے سے سر انجام دینا ہے اگر اسے گھر سے نکال دیا جائے اور وہ مردوں کے ساتھ ان کاموں میں شریک ہو جائے تو عورت کے کام کون کرے گا؟ یقیناً وہ کام دھرے کے دھرے رہ جائیں گے اور اس طرح معاشرہ اپنے دوسرے آدھے حصے سے بھی محروم ہوجائے گا تو پہلے نصف حصے سے کیا فائدہ حاصل ہو سکے گا ؟ اس طرح تو معاشرے کی بنیاد یں بالکل کھوکھلی ہو جائیں گی۔ ہم آزادی کے ان دعویداروں کو کہتے ہیں کہ تم خیرو بھلائی کی طرف پلٹ آؤ ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنھوں نے اللہ کی نعمت کی ناقدری کی حتی کہ انھوں نے اپنی قوم کو تباہی کے گڑھے میں ڈال دیا۔ تم تعمیر کی دعوت دینے والے بنو ،تخریب کی طرف بلانے والے نہ بنو۔