کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 182
بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ممانعت کی بہت سی روایات ہیں۔"[1] امام سے مسابقت ایک شیطانی کھیل تماشا ہے جس کے ذریعے سے شیطان نماز میں خلل پیدا کرتا ہے، ورنہ اس کو کیا فائدہ ہو سکتا ہے؟ مقتدی امام کے سلام پھیرنے سے پہلے نماز سے فارغ تو ہو نہیں سکتا؟ ہر مسلمان کو اس بارے میں خبر دار رہنا چاہیے اور اپنے امام کی اقتدا کا التزام کرنا چاہیے۔ ہم اللہ تعالیٰ سے دعا کرتے ہیں کہ وہ سب کو دین کا فہم اور اس کے احکام سے واقفیت و بصیرت دے۔ یقیناً وہی سننے والا اور قبول کرنے والا ہے۔ وہ جسے خیرو بھلائی دینے کا ارادہ فرما لے اسے دین کا فہم عطا کرتا ہے۔ مساجد میں عورتوں کے حاضر ہونے کا حکم ہمارا دین اسلام ایک کامل دین ہے جو دنیوی اور اخروی مصلحتوں کا جامع ہے۔ اس میں مسلمانوں مردوں اور خواتین کے لیے بھلائی اور خیرخواہی ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّن ذَكَرٍ أَوْ أُنثَىٰ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْيِيَنَّهُ حَيَاةً طَيِّبَةً ۖ وَلَنَجْزِيَنَّهُمْ أَجْرَهُم بِأَحْسَنِ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ" "جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت لیکن باایمان ہو تو ہم اسے یقیناً نہایت بہتر زندگی عطا فرمائیں گے۔ اور ان کے نیک اعمال کا بہتر بدلہ بھی انھیں ضرور بہ ضرور دیں گے۔"[2] دین اسلام نے عورت کے امور پر بھی بہت توجہ دی ہے حتی کہ اسے عزت و احترام کی بلند چوٹی پر کھڑا کر دیا ہے ،بشرطیکہ وہ دین کی ہدایت اور راہنمائی کو مضبوطی سے تھا مے رکھے اور اس کے بتائے ہوئے فضائل و خصائل سے آراستہ ہو۔ عورت کی تربیت کی ایک صورت یہ ہے کہ دین اسلام نے اسے باجماعت نماز کی برکات میں شریک ہونے اور مجالس ذکر میں شامل ہونے کے لیے مسا جد میں جانے کی اجازت دی ہے اور اس کے ساتھ اسے ان احتیاطی تدابیر کو اختیار کرنے کی تلقین و تاکید کی ہے جو اسے دنیاوی فتنوں سے محفوظ و مامون رکھیں بلکہ اس کی عزت و احترام کی محافظ ثابت ہوں جس کی قدرے تفصیل یوں ہے: جب عورت مسجد میں جانے کی اجازت طلب کرے تو اسے روکنا درست نہیں کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے [1] مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللّٰه علیہ 23/336۔ [2] ۔النحل:16۔97۔