کتاب: فقہی احکام و مسائل(جلد1) - صفحہ 176
واضح رہے کہ اس کی بعد والی نماز نفل ہو جائے گی جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو آدمیوں کو فرمایا تھا:"جب تم اپنے گھروں میں نماز پڑھ چکو پھر تم مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز پالو تو اس کے ساتھ بھی پڑھ لو تو بعد والی نماز تمہارے لیے نفل ہو جائے گی۔[1] ویسے بھی جب لوگ باجماعت نماز ادا کررہے ہوں اور کوئی شخص الگ تھلگ ہو کر بیٹھ جائے تو اس کے بارے میں لوگوں کے دلوں میں بد گمانی پیدا ہو سکتی ہے کہ شاید یہ نمازی نہیں۔ نماز باجماعت کے احکام میں یہ بھی ہے کہ جب مؤذن فرض نماز کی اقامت شروع کردے تو پھر کسی کے لیےکوئی دوسری نماز الگ طور پر شروع کرنا جائز نہیں وہ نماز نفل ہویا کوئی فرض تحیۃ المسجد ہویا کوئی اور نماز کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إذا أقيمت الصلاة فلا صلاة إلا المكتوبة" "جب نماز کی اقامت کہی جائے تو فرض نماز کے سوا کوئی نماز نہیں ہوتی۔"[2] ایک روایت میں ہے: "فلا صلاة إلا التي أقيمت" "پھر کوئی نماز نہیں سوائے اس نماز کے جس کی اقامت کہی گئی ہے۔"[3] لہٰذا فرض نماز کی اقامت سن کر کوئی اور نماز شروع نہ کی جائے بلکہ اگر کوئی نماز مشغول ہو تو اسے توڑ کر اس نماز میں شامل ہو جائے جس کی اقامت کہی گئی ہے۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:"اقامت کے بعد نفل نماز کو چھوڑ کر امام کے ساتھ شامل ہونے میں یہ حکمت ہے کہ انسان شروع ہی سے فرض نماز کے لیے فارغ ہو کر امام کے ساتھ شامل ہو جاتا ہے، فرض نماز کی مخافظت کرنا نفل نماز میں مشغول ہونے سے بہتر ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امام سے اختلاف کرنے سے منع کیا ہے۔ ایک حکمت یہ بھی ہے کہ تکبیر تحریمہ حاصل ہوجاتی ہے اور امام کے ساتھ ہی تکبیر تحریمہ یں شامل ہونے سے تکبیر تحریمہ کا مخصوص اجرو ثواب ملتا ہے۔"[4] اگر نماز کی اقامت ہو جائے اور کوئی شخص نفلی نماز میں مصروف ہوتو اسے توڑ نے کی بجائے مختصر کر کے مکمل کرے۔ [1] ۔جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی الرجل یصلی وحدہ ثم یدرک الجماعۃ ،حدیث 219۔ [2] ۔صحیح مسلم ،صلاۃ المسافرین ،باب کراھۃ الشروع فی نافلۃ بعد شروع المؤذن فی اقامۃ الصلاۃ ،حدیث 710۔ [3] ۔(ضعیف) مسند احمد2/352۔ [4] ۔شرح مسلم للنووی 5/312۔