کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 173
کا باعث ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "إِنَّ صَلاة الرَّجُلِ مَعَ الرَّجُلِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ وَحْدَهُ وَصَلاتُهُ مَعَ الرَّجُلَيْنِ أَزْكَى مِنْ صَلاتِهِ مَعَ الرَّجُلِ وَمَا كَثُرَ فَهُوَ أَحَبُّ إلَى اللّٰهِ تَعَالَى " "آدمی کی نماز دوسرے آدمی سے مل کر اکیلے کی نسبت زیادہ اجر والی ہے، اسی طرح دو آدمیوں کے ساتھ مل کر نماز ادا کرنا ایک آدمی کے ساتھ نماز ادا کرنے سے زیادہ اجر کا باعث ہے۔ جماعت میں افراد کی جس قدر کثرت ہوگی تو وہ نماز اللہ تعالیٰ کے ہاں اسی قدر محبوب اور زیادہ اجر کا باعث ہو گی۔"[1] اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ اجتماع میں رحمت و سکینت کا نزول ہوتا ہے، عمومی دعا ئیں ہوتی ہیں اور قبولیت دعا کی امید بڑھ جاتی ہے، بالخصوص جب نمازیوں میں اہل علم اور نیک لوگ موجود ہوں ۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: "فِيهِ رِجَالٌ يُحِبُّونَ أَنْ يَتَطَهَّرُوا وَاللّٰهُ يُحِبُّ الْمُطَّهِّرِينَ" "اس میں ایسے آدمی ہیں کہ وہ خوب پاک ہونے کو پسند کرتے ہیں اور اللہ خوب پاک ہونے والوں کو پسند کرتا ہے۔"[2] اس آیت کریمہ سے طہارت اور مکمل وضو کا خیال رکھنے والے صالحین کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرنے کا استحباب ثابت ہوتا ہے۔ پھر نئی مسجد کی نسبت پرانی مسجد میں نماز ادا کرنا بہتر اور افضل ہے کیونکہ جدید مسجد کی نسبت اسے اطاعت اور عبادت میں سبقت حاصل ہے۔ پھر قریب کی مسجد کی بجائے، کسی دور کی مسجد میں نماز ادا کرنا افضل ہے کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: "إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ أَجْرًا فِي الصَّلَاةِ أَبْعَدُهُمْ، فَأَبْعَدُهُمْ مَمْشًى، " "نماز کا اجرو ثواب ان لوگوں کے لیے زیادہ ہے جو نماز کے لیے زیادہ دور سے آتے ہیں۔"[3] "وَذَلِكَ أَنَّهُ إِذَا تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ خَرَجَ إِلَى الْمَسْجِدِ لَا يُخْرِجُهُ إِلَّا الصَّلَاةُ ، لَمْ يَخْطُ خَطْوَةً إِلَّا رُفِعَتْ لَهُ بِهَا دَرَجَةٌ وَحُطَّ عَنْهُ بِهَا خَطِيئَةٌ وفي رواية: "حتى يدخل المسجد" [1] ۔سنن ابی داؤد، الصلاۃ، باب فی فضل صلاۃ الجماعۃ ،حدیث 554 ومسند احمد 5/140۔ [2] ۔التوبہ: 9/108۔ [3] ۔صحیح البخاری، الاذان، باب فضل صلاۃ الفجر فی جما عۃ، حدیث 651۔