کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 170
الْقُلُوبُ وَالْأَبْصَارُ" "ان گھروں میں، جن کے ادب واحترام کا اور اللہ کا نام وہاں لیے جانے کا حکم ہے ،وہاں صبح و شام اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ ایسے لوگ جنھیں تجارت اور خریدو فروخت اللہ کے ذکر سے اور نماز کے قائم کرنے اورزکاۃ ادا کرنے سے غافل نہیں کرتی ،وہ اس دن سے ڈرتے ہیں جس دن بہت سے دل اور بہت سی آنکھیں الٹ پلٹ ہو جائیں گی۔"[1] اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: "إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللّٰهِ مَنْ آمَنَ بِاللّٰهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَأَقَامَ الصَّلَاةَ وَآتَى الزَّكَاةَ وَلَمْ يَخْشَ إِلَّا اللّٰهَ ۖ فَعَسَىٰ أُولَـٰئِكَ أَن يَكُونُوا مِنَ الْمُهْتَدِينَ" "اللہ کی مسجدوں کی رونق و آبادی تو ان کے حصے میں ہے جو اللہ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہوں۔نمازوں کے پابند ہوں، زکاۃ دیتے ہوں، اللہ کے سواکسی سے نہ ڈرتے ہوں ،توقع ہے کہ یہی لوگ یقیناً ہدایت یافتہ ہیں۔"[2] ان دو آیتوں میں مساجد اور انھیں آباد کرنے کی اہمیت واضح کی گئی ہے، انھیں آباد کرنے والوں کے لیے اجرو ثواب کا وعدہ کیا گیا ہے اور ضمناً نماز میں حاضر نہ ہونے والوں کی مذمت کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "لا صلاة لجار المسجد إلا في المسجد" "مسجد کے پڑوسی کی نماز مسجد کے علاوہ نہیں ہوتی۔"[3] سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بھی ایسی ہی روایت مروی ہے مگر اس میں یہ اضافہ ہے: "من اسمعه المنادي" "(مسجد کا پڑوسی وہ ہے) جسے مؤذن کی اذان سنائی دے۔"[4] ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:"جس شخص نے سنت میں کماحقہ غور کیا اسے معلوم ہو جائے گا کہ نماز کے لیے مسجد میں حاضر ہونا ہر مرد پر فرض ہے الایہ کہ کوئی ایسا عارضہ لاحق ہو جس سے ترک جماعت کی رخصت ہو۔ بلا عذر مسجد میں غیر حاضری، بلا عذر ترک جماعت کے مترادف ہے۔ اس نقطہ نظر پر احادیث وآثار متفق ہیں۔"[5] [1] ۔النور:24۔36۔37۔ [2] ۔التوبہ:9۔18۔ [3] ۔(ضعیف)السنن الکبری للبیہقی ابواب فضل الجماعۃ والعذر بترکھا ، باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر: 3/57۔ [4] ۔(ضعیف)السنن الکبری للبیہقی، ابواب فضل الجماعۃ والعذر بترکھا ،باب ماجاء من التشدید فی ترک الجماعۃ من غیر عذر: 3/57۔ [5] ۔الصلاۃ واحکام تارکھا لا بن القیم، ص:118۔