کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 168
نے فرمایا:" تم مسجد میں ضرورآؤ۔"[1] اس روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نابینا شخص کو اذان پر لبیک کہنے اور نماز باجماعت میں شریک ہونے کا حکم دیا ہے، حالانکہ اس کے لیے اس میں مشقت اور تکلیف تھی۔ یہ حدیث بھی نماز باجماعت کے وجوب پر دلیل ہے۔ باجماعت نماز کا وجوب اہل ایمان کے ہاں دور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے آج تک مسلم چلا آرہا ہے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول ہے:" ہم نے دیکھا جماعت سے وہی پیچھے رہتا تھا جس کا نفاق واضح اور نمایاں تھا جبکہ مومن شخص کو دو آدمیوں کا سہارا دے کر مسجد میں لایا جاتا اور صف میں کھڑا کر دیا جاتا۔"[2] اس سے واضح ہوتا ہے کہ نماز باجماعت کا وجوب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے دل و دماغ میں راسخ تھا اور یہ بات انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی سے معلوم ہوئی تھی ۔یہ امر واضح ہے کہ جس عمل کے بارے میں کہا جائے کہ "اس سے صرف منافق ہی پیچھے رہتا ہے:"وہ ہر شخص پر واجب ہوتا ہے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے مرفوعاً روایت کیا ہے: "الْجَفَاءُ كُلُّ الْجَفَاءِ ، وَالْكُفْرُ وَالنِّفَاقُ مَنْ سَمِعَ مُنَادِيَ اللّٰهِ يُنَادِي بِالصَّلاةِ وَيَدْعُو إِلَى الْفَلاحِ فَلا يُجِيبُهُ " "یہ حددرجہ کا ظلم ،کفر اور نفاق ہے کہ کوئی شخص مؤذن کی اذان سنے جو کہ نماز اور کامیابی کی طرف بلاتا ہے اور وہ اس پر لبیک نہ کہے۔"[3] ایک روایت میں ہے: " يَدُ اللّٰهِ عَلي الْجَمَاعَةِ ، وَمَنْ شَذَّ شَذَّ إِلَى النَّارِ" "جماعت پر اللہ تعالیٰ کا ہاتھ ہے جو الگ ہوا وہ جہنم میں ڈال دیا گیا ۔"[4] سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص کے بارے میں پوچھا گیا جو رات کو قیام کرتا ہے ،دن کو روزہ رکھتا ہے۔ لیکن نماز کے لیے وہ جماعت کے ساتھ شریک نہیں ہوتا تو ا نھوں نے فرمایا:"وہ جہنمی ہے۔"[5] [1] ۔صحیح مسلم، المساجد،باب یجب اتیان المسجد علی من سمع النداء، حدیث: 653۔ [2] ۔سنن ابی داؤد ،الصلاۃ، باب التشدید فی ترک الجماعۃ، حدیث :550۔ وسنن ابن ماجہ، المساجد والجماعات ،باب المشی الی الصلاۃ ،حدیث 777۔ [3] ۔( ضعیف)۔مسند احمد:3/439۔ [4] ۔جامع الترمذی ،الفتن ،باب ماجاء فی لزوم الجماعۃ، حدیث 2167۔وقال الالبانی رحمۃ اللّٰه علیہ صحیح دون ومن شذ۔ [5] ۔(ضعیف)جامع الترمذی الصلاۃ باب ماجاء فی من سمع النداء فلا یجیب، حدیث:218۔