کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 167
ترک جماعت کی رخصت نہیں ہے۔ اگر نماز باجماعت واجب نہ ہوتی تو خوف کے عذر کے وقت بطریق اولیٰ ساقط ہو جاتی ،حالانکہ نماز خوف میں بہت سے واجبات ترک کر دیے جاتے ہیں۔ اور نماز باجماعت کی خاطر ہی بہت سے احکام معاف کر دیے گئے ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: " إِنَّ أَثْقَلَ صَلَاةٍ عَلَى الْمُنَافِقِينَ صَلَاةُ الْعِشَاءِ وَصَلَاةُ الْفَجْرِ ، وَلَوْ يَعْلَمُونَ مَا فِيهِمَا لَأَتَوْهُمَا وَلَوْ حَبْوًا - وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَتُقَامَ ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيُصَلِّيَ بِالنَّاسِ، ثُمَّ أَنْطَلِقَ مَعِي بِرِجَالٍ مَعَهُمْ حُزَمٌ مِنْ حَطَبٍ إِلَى قَوْمٍ لَا يَشْهَدُونَ الصَّلَاةَ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ بِالنَّارِ " "یقیناً منافقین پر عشاء اور فجر کی نماز یں بہت بھاری ہیں اگر انھیں ان کا اجر معلوم ہو جائے تو اگر انھیں چوتڑوں کے بل گسٹ کر آنا پڑے تب بھی ضرور آجائیں ۔ میں نے ارادہ کیا کہ نماز کی اقامت کا حکم دوں ،پھر ایک شخص کو کہوں کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائے اور میں خود ایسے آدمیوں کو لے کر چلوں جن کے پاس ایندھن کے گٹھے ہوں اور جو افراد جماعت میں شریک نہ ہوں ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔"[1] اس حدیث سے نماز باجماعت کا وجوب دو طرح ثابت ہوتا ہے۔اولاً: باجماعت نماز سے پیچھے رہنے والوں کو منافقین میں شمار کیا گیا ہے ۔سنت سے پیچھے رہنے والا منافق شمار نہیں ہوتا ،لہٰذا معلوم ہوا کہ نماز باجماعت کا تارک" واجب" کا تارک ہے ۔ثانیاً: باجماعت نماز سے پیچھے رہ جانے کی صورت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں سزا دینے کا ارادہ کیا تھا اور سزا ترک واجب ہی پر ہوتی ہے، البتہ اس سزا کو اس لیے نافذ نہیں کیا گیا کہ گھروں میں عورتیں اور بچے موجود ہوتے ہیں جن پر جماعت میں شریک ہونا واجب نہیں ۔صحیح مسلم میں ہے: " أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ أَعْمَى فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللّٰهِ ! إِنَّهُ لَيْسَ لِي قَائِدٌ يَقُودُنِي إِلَى الْمَسْجِدِ ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُرَخِّصَ لَهُ فَيُصَلِّيَ فِي بَيْتِهِ، فَرَخَّصَ لَهُ فَلَمَّا وَلَّى دَعَاهُ فَقَالَ : ( هَلْ تَسْمَعُ النِّدَاءَ بِالصَّلَاةِ ؟ ) فقَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : ( فَأَجِبْ ) " "ایک نابینا شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اور کہا:اے اللہ کے رسول ! مجھے مسجد کی طرف لانے والا کوئی نہیں، لہٰذا گھر میں نماز ادا کرنے کی رخصت عنایت فرمائیں ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے رخصت دے دی، جب وہ واپس پلٹا تو اسے دوبارہ بلوایا اور فرمایا:" کیا تم اذان سنتے؟"اس نے کہا:ہاں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم [1] ۔صحیح البخاری ،الاذان ،باب فضل صلاۃ العشاء فی الجماعۃ ،حدیث 657۔وصحیح مسلم، المساجد، باب فضل صلاۃ الجماعۃ وبیان التشدید فی التخلف عنہا ،حدیث 651 واللفظ لہ ۔