کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 160
الْمَكْتُوبَةَ" "لوگو! اپنے گھروں میں نماز پڑھا کرو۔ بے شک آدمی کی بہترین نماز وہ ہے جو گھر میں ادا ہو، سوائے فرض نماز کے(وہ مسجد میں افضل ہے۔)[1] علاوہ ازیں گھر میں قیام کرنا اخلاص کے قریب تر ہے۔ 7۔کھڑے ہو کر نفل نماز ادا کرنا بلا عذر بیٹھ کر نماز ادا کرنے سے افضل ہے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "مَنْ صَلَّى قَائِمًا فَهُوَ أَفْضَلُ وَمَنْ صَلَّى قَاعِدًا فَلَهُ نِصْفُ أَجْرِ الْقَائِمِ" "کھڑے ہو کر نماز ادا کرنا افضل ہے۔ جس نے(بلا عذر )بیٹھ کر نماز ادا کی اس کے لیے کھڑے ہو کر قیام کرنے والے کی نسبت نصف اجر ہے۔"[2] جس نے کسی شرعی عذر کی وجہ سے بیٹھ کر نفل نماز ادا کی، اسے کھڑا ہو کر قیام کرنے والے کے برابر ہی اجر ملے گا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: "إِذَا مَرِضَ الْعَبْدُ أَوْ سَافَرَ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ مَا كَانَ يَعْمَلُ مُقِيمًا صَحِيحًا" "جب کوئی بندہ بیمار ہو یا سفر پر ہو تو اس کا ہر وہ عمل (اللہ کے ہاں) لکھا جائے گا جو حالت صحت میں یا مقیم ہو کر کیا کرتا تھا۔"[3] علاوہ ازیں کھڑے ہونے کی استطاعت کے باوجود بیٹھ کر نفل نماز ادا کرنے کے جواز میں علماء کا اتفاق ہے۔ رات کاقیام نماز وتر پر ختم کرے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے قیام میں سب سے آخر میں وتر ادا کرتے تھے۔[4]نیز متعدد روایات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ حکم بھی ہے۔[5] جو شخص رات کو(کسی وجہ سے) تہجد کی نماز ادا نہ کر سکا تو اس کے لیے مناسب یہ ہے کہ وہ ظہر سے پہلے پہلے اس کی قضا دے دے کیونکہ حدیث میں ہے: "مَنْ نَامَ عَنْ حِزْبِهِ أَوْ عَنْ شَيْءٍ مِنْهُ فَقَرَأَهُ فِيمَا بَيْنَ صَلَاةِ الْفَجْرِ وَصَلَاةِ الظُّهْرِ [1] ۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ النافلۃ فی بیتہ، حدیث 781۔ [2] ۔صحیح البخاری التقصیر باب صلاۃ القاعد بالایماء ،حدیث 1116۔ [3] ۔صحیح البخاری الجہاد والسیر ،باب یکتب للمسافرمثل ماکان یعمل فی الاقامۃ ،حدیث 2996۔ [4] ۔صحیح البخاری الوتر باب ساعات الوتر حدیث 996۔وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل حدیث 749۔ [5] ۔صحیح البخاری، الوتر، باب لیجعل آخر صلاتہ وترا،حدیث 998وصحیح مسلم ،صلاۃ المسافرین ،باب صلاۃ اللیل ۔حدیث 751۔