کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 156
اس کے علاوہ یہ دعا بھی پڑھ سکتا ہے: "اللّٰهُمَّ اكْتُبْ لِي بِهَا عِنْدَكَ أَجْرًا، وَضَعْ عَنِّي بِهَا وِزْرًا، وَاجْعَلْهَا لِي عِنْدَكَ ذُخْرًا وَتَقَبَّلْهَا مِنِّي كَمَا تَقَبَّلْتَهَا مِنْ عَبْدِكَ دَاوُدَ." ’’اے اللہ!میرےلیے اپنے ہاں اس کے بدلے اجرو ثواب لکھ لے اور اس کے ذریعے مجھ سے بوجھ دور فرما دے اور اس(سجدے) کو اپنے ہاں میرے لیے ذخیرہ بنالے اور میرے اس (سجدے) کو قبول فرما لے جس طرح تونے اپنے بندے داودکا سجدہ قبول کیا تھا۔‘‘[1] کھڑے ہو کر سجدے میں جانا ،بیٹھے بیٹھے سجدے میں جانے سے افضل ہے۔[2] اے مسلمان !خیر و بھلائی کے بہت سے راستے ہیں ،کوشش کر کے انھیں اختیار کیجیے اپنے قول و عمل میں اخلاص پیدا کیجیے تاکہ اللہ تعالیٰ تمھیں سعادت مند اور خوش نصیب لوگوں میں شامل فرمائے۔آمین۔ نوافل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ فرض نماز کے علاوہ کون سی نماز افضل ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: الصَّلَاةُ فِي جَوْفِ اللَّيْلِ"رات کی نماز۔"[3] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: "إِنَّ فِي اللَّيْلِ لَسَاعَةً لَا يُوَافِقُهَا رَجُلٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللّٰهَ خَيْرًا مِنْ أَمْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ وَذَلِكَ كُلَّ لَيْلَةٍ" "رات میں ایک ایسا وقت ہوتا ہےکہ اگر کوئی مسلمان اسے اس حال میں حاصل کرے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے دنیا و آخرت کی بھلائی طلب کر رہا ہو تو اللہ تعالیٰ اسے ضرور عطا فرماتا ہے۔ اور یہ ہر رات ہوتا ہے۔"[4] [1] ۔جامع الترمذی الدعوات باب مایقول فی سجود القرآن ؟ حدیث :3424۔ [2] ۔اس کے بارے میں فاضل مصنف نے کوئی دلیل پیش نہیں کی۔ [3] ۔مسند احمد 2/303۔وسنن ابی داؤد الصیام باب فی صوم المحرم حدیث 2429۔وسنن النسائی قیام اللیل باب فضل صلاۃ اللیل حدیث 1614۔1615۔ [4] ۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب فی اللیل ساعۃ مستجاب فیہا الدعاء، حدیث :757۔