کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 154
اور تذلل و عاجزی کا اظہار کرنا ہے۔ سجدہ تلاوت قاری اور سامع دونوں کے لیے مسنون ہے اور اس کی مشروعیت پر علماء کا اتفاق ہے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے: " كَانَ رَسُولُ اللّٰهِ صَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ عَلَيْنَا السُّورَةَ فَيَقْرَأُ السَّجْدَةَ فَيَسْجُدُ وَنَسْجُدُ مَعَهُ حَتَّى مَا يَجِدُ أَحَدُنَا مَكَانًا لِمَوْضِعِ جَبْهَتِهِ " نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ہمیں کوئی ایسی سورت سناتے جس میں"سجدہ" ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود سجدہ کرتے اور ہم بھی آپ کے ساتھ سجدہ کرتے تھے، یہاں تک کہ ہم میں سے بعض کو زمین پر پیشانی رکھنے کے لیے جگہ نہ ملتی تھی۔"[1] علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں:" قرآن مجید میں سجدہ کے جس قدر مقامات ہیں ،ان میں سجدہ کرنے کا ذکر ہے یا حکم ہے، جہاں اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے عام یا خاص سجدہ کی خبر دی ہے وہاں قاری اور سامع دونوں کے لیے واجبی طور پر یا استحباباً سجدہ مقرر کیا گیا ہے تاکہ سجدہ کرنے والی مخلوق سے ان کی مشابہت ہو جائے۔ باقی رہیں اوامروالی آیات (جن آیات میں سجدہ کرنے کا حکم ہے) تو وہاں سجدہ کرنا بطریق اولیٰ ضروری ہے۔"[2] سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "إِذَا قَرَأَ ابْنُ آدَمَ السَّجْدَةَ فَسَجَدَ، اعْتَزَلَ الشَّيْطَانُ يَبْكِي، يَقُولُ: يَا وَيْلَهُ ! أُمِرَ ابْنُ آدَمَ بِالسُّجُودِ فَسَجَدَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، وَأُمِرْتُ بِالسُّجُودِ فَأَبَيْتُ فَلِيَ النَّارُ" "جب ابن آدم آیت سجدہ پڑھ کر سجدہ کرتا ہے تو شیطان الگ ہو کر روتا ہے اور کہتا ہے: ہائے افسوس !ابن آدم کو سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو وہ سجدے میں گر گیا ،اس کے لیے جنت ہے۔ مجھے سجدہ کرنے کا حکم ہوا تو میں نے انکار کر دیا ،میرے لیے آگ ہے۔"[3] سجدہ تلاوت قاری اور سامع دونوں کے لیے مشروع ہے۔ واضح رہے سامع سے مراد وہ شخص ہے جو قصداً اور ارادۃً قرآن مجید کی تلاوت سنتا ہے، اس مجلس میں شریک ہے، چنانچہ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت مذکورہ سے یہ بات وضاحت سے معلوم ہوتی ہے ۔باقی رہا وہ سامع جو قصداً تلاوت نہیں سن رہا بلکہ سجدہ والی آیت کے [1] ۔صحیح البخاری ،سجود القرآن، باب من سجد لسجود القاری ،حدیث1075۔وصحیح مسلم ،المساجد باب سجود التلاوۃ، حدیث 575۔ [2] ۔اعلام الموقعین 2/370۔ [3] ۔صحیح مسلم ،الایمان باب بیان اطلاق اسم الکفر علی من ترک الصلاۃ، حدیث 81۔وسنن ابن ماجہ، اقامۃ الصلوات باب سجود القرآن، حدیث 1052۔