کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 152
ان سنن کی محافظت سے فرض نمازوں میں پیدا ہونے والی کمی اور نقصان پورا ہو جاتا ہے جبکہ انسان سے کمی و نقصان کا احتمال عموماً رہتا ہے اور اس کمی کو پورا کرنے کی اشد ضرورت ہے، لہٰذا اس میں کوتاہی نہ کیجیے ۔ یہ چیز خیرو برکت کی کثرت کا باعث ہے جو تم اپنے رب کے ہاں ضرور حاصل کرو گے۔(ان شاء اللہ) ہر فرض عبادت کے ساتھ نفل عبادت ہے، مثلاً:فرض نماز روزے اور فرض حج ان میں سے ہر ایک کے ساتھ اس کی جنس کی نفل عبادت موجود ہے تاکہ اس فرض عبادت میں پیدا ہونے والا نقصان پورا ہو جائے اور خلا پر ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ کا اپنے بندوں پر خاص فضل و عنایت ہے کہ اس نے اطاعت و فرمانبرداری کے لیے مختلف انواع کی عبادات مقرر فرمادی ہیں تاکہ ان کے درجات بلند ہوں اور خطائیں معاف ہوں۔ ہم اللہ تعالیٰ سے اپنے لیے اور سب کے لیے ایسے اعمال کی توفیق مانگتے ہیں جو اسے محبوب اور پسند ہوں ،بے شک وہی سننے والا قبول کرنے والا ہے۔ نماز چاشت نماز چاشت سے متعلق کئی ایک روایات ہیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: "أَوْصَانِي خَلِيلِي صلى اللّٰه عليه وسلم بِثَلاثٍ : صِيَامِ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَرَكْعَتَيْ الضُّحَى , وَأَنْ أُوتِرَ قَبْلَ أَنْ أَنَامَ" "مجھے میرے خلیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی نصیحت فرمائی: ہر ماہ تین روزے رکھنا ،ضحیٰ یعنی چاشت کی دو رکعتیں پڑھنا اور سونے سے پہلے وتر پڑھ لینا۔"[1] سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: "كان النبي صلى اللّٰه عليه وسلم يصلي الضحى حتى نقول: لا يدع ، ويدعها حتى نقول: لا يصلي " "نبی صلی اللہ علیہ وسلم چاشت کی نماز پڑھتے حتیٰ کہ ہم کہتے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ چھوڑیں گے۔ اگر چھوڑدیتے تو ہم کہتے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کبھی نہ پڑھیں گے۔"[2] [1] ۔صحیح البخاری الصوم باب صیام البیض حدیث 1981وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب استحباب صلاۃ الضحیٰ حدیث 721۔ [2] ۔(ضعیف)جامع الترمذی الوتر باب ماجاء فی صلاۃ الضحی حدیث 477ومسند احمد 3/21۔