کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 148
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو ایسے اعمال کی توفیق دے جس میں ہماری اصلاح اور فلاح ہو۔ سنن مؤکدہ سنن مؤکدہ کی بڑی اہمیت ہے۔ان کا ترک مکروہ ہے۔ بعض ائمہ کے نزدیک سنن مؤکدہ کا تارک ناقابل اعتبار ہے، یعنی شرعاً اس کی گواہی قابل قبول نہیں بلکہ گناہ گار ہے۔ کسی شخص کا سنن مؤکدہ کو دائمی ترک کرنا اس کی دینی کمزوری اور لاپرواہی کا مظہر ہے۔ سنن مؤکدہ دس رکعات ہیں جو درج ذیل ہیں: 1۔ظہر سے پہلے دو رکعتیں ۔ اکثر علماء کے نزدیک ظہر سے پہلے چار رکعات سنن مؤکدہ ہیں۔ اس طرح ان کے ہاں سنن مؤکدہ کی کل تعداد بارہ رکعات ہیں۔ 2۔ظہر کے بعد دو رکعتیں ۔ 3۔مغرب کے بعد دو رکعتیں ۔ 4۔عشاء کے بعد دو رکعتیں۔ 5۔طلوع فجر کے بعد اور نماز فجر سے پہلے دو رکعتیں۔ سنن مؤکدہ کی اس تفصیل کی دلیل سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہماکی روایت ہے: "حفظت من النبي صلى اللّٰه عليه وسلم عشر ركعات : ركعتين قبل الظهر ، وركعتين بعدها ، وركعتين بعد المغرب في بيته ، وركعتين بعد العشاء في بيته ، وركعتين قبل صلاة الصبح وكانت ساعة لا يدخل علي النبي فيها" "میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دس رکعات کے بارے میں جو عمل یاد کیا وہ یوں ہے: ظہر سے پہلے دو رکعتیں