کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 146
اور فرمایا: "مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيمَانًا وَاحْتِسَابًا غُفِرَ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ " "جس نے ایمان اور طلب ثواب کی نیت کے ساتھ رمضان المبارک کا قیام کیا ،اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کر دیے جائیں گے۔"[1] نماز تراویح سنت ثابتہ ہے، لہٰذا کسی مسلمان کے لائق نہیں کہ وہ اسے چھوڑدے۔ نماز تراویح کی رکعات کی تعداد کی تعیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت نہیں، لہٰذا اس امر میں وسعت ہے۔"[2] شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: نماز تراویح ادا کرنے والا چاہے تو بیس رکعات ادا کرے ،جیسا کہ امام احمد اور امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ کا مذہب مشہور ہے یا وہ چھتیس رکعات ادا کرے جیسا کہ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ کا مسلک ہے۔اور اگر وہ چاہے تو گیارہ یا تیرہ رکعات پڑھ لے جس قدر بھی پڑھے درست ہے۔ قیام چھوٹا ہو تو رکعات کی تعداد بڑھالی جائے اور اگررکعات کی تعداد کم ہو تو قیام لمبا کر لیا جائے۔"[3] سیدنا امیر المومنین عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جب حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کو لوگوں کا امام مقرر کیا تو انھوں نے بیس رکعات پڑھائیں ۔[4] صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں کوئی کم رکعات پڑھتا اور کوئی زیادہ ۔الغرض شارع علیہ السلام سے محدود یا متعین تعداد کے بارے میں کوئی نص وارد نہیں۔ اکثر ائمہ مساجد جو نماز تراویح پڑھاتے ہیں وہ توجہ سے نماز نہیں پڑھاتے، ان کے رکوع و سجود میں اطمینان اور سکون نہیں ہوتا ،حالانکہ طمانینت رکن نماز ہے، نماز کا مطلوب حضور قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہونا ہے اور اس قرآن مجید کے پڑھے جانے والے حصے پر غور کرنا اور نصیحت حاصل کرنا ہے۔ لیکن یہ چیزیں ناپسندحد تک جلد بازی کرنے سے حاصل نہیں ہوتیں ۔ایسی دس رکعات جن میں قیام لمبا ہوا ور اطمینان و سکون ہو ان بیس رکعات سے کہیں بہتر ہیں جو انتہائی جلد بازی سے ادا ہوں کیونکہ نماز کا لب لباب اور روح، اللہ تعالیٰ کے حضور دل کو [1] ۔صحیح البخاری الایمان باب تطوع قیام رمضان من الایمان حدیث 37وصحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب الترغیب فی قیام رمضان وھو التراویح حدیث :759۔ [2] ۔مؤلف رحمۃ اللہ علیہ کی یہ بات محل نظر ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعداد کی تعیین ثابت نہیں کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین دن جو نماز تراویح پڑھائی تھی وہ گیارہ رکعات تھیں۔ لہٰذا سنت گیارہ رکعت ہی ہیں۔(قیام اللیل للمروزی(صارم)صحیح البخاری حدیث:1147۔وصحیح ابن خزیمہ 2/138۔حدیث 1070۔ [3] ۔حاشیہ الروض المربع زاد المستقنع 2/201۔ [4] ۔(ضعیف )المصنف لابن ابی شیبہ 2/165۔رقم 7683۔البتہ مؤطاامام مالک (الصلاۃ فی رمضان باب ماجاء فی قیام رمضان 1/114) کی صحیح روایت کے مطابق سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے انھیں گیارہ رکعات پڑھانے کا حکم دیا تھا۔(صارم)