کتاب: فقہی احکام و مسائل - صفحہ 142
"فَمَنْ لَمْ يُوتِرْ فَلَيْسَ مِنَّا" "جس شخص نے وتر نہ پڑھے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔[1] وتر دراصل ایک مستقل اور الگ رکعت کا نام ہے۔ اگر ایک ہی سلام سے متصل تین، پانچ، سات، نو اور گیارہ رکعتیں ہوں گی تو یہ تمام رکعتیں وتر کہلائیں گی۔البتہ جب دو یا زیادہ مرتبہ سلام پھیرا جائے گا تو وتر صرف اس رکعت کا نام ہو گا جو مستقل اورالگ پڑھی گئی ہے۔ وتر کا وقت نماز عشاء کے بعد شروع ہوتا ہے اور طلوع فجر تک رہتا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے ہر حصے میں وتر ادا کیے ہیں۔ یعنی رات کے شروع حصے میں وسط میں اور آخری حصے میں حتی کہ آپ نے طلوع فجر کے قریب تک وتر ادا کیے ہیں۔[2] بہت سی احادیث سے واضح ہوتا ہے کہ ساری رات ہی نماز وتر کا وقت ہے، البتہ نماز عشاء کی ادائیگی سے قبل وتر جائز نہیں۔ جس شخص کو رات کے آخری حصے میں اٹھنے پر اعتماد ہوتو اس کے لیے رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرنا افضل ہے۔ اور جسے اعتماد یقین نہ ہو تو وہ سونے سے پہلے پہلے وتر ادا کر لے، یہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت اور تلقین ہے، چنانچہ صحیح مسلم میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "أيكم خاف أن لا يقوم من آخر الليل فليوتر ،ثم ليرقد ، ومن وثق بقيام من الليل فليوتر من آخره ، فإن قراءة آخر الليل محضورة، وذلك أفضل" "جس شخص کو یہ خوف ہو کہ رات کے آخری حصے میں اٹھ نہ سکے گا تو وہ وتر ادا کر لے اور سوجائے اور جس شخص کو رات کے کسی حصے میں اٹھ جانے پر یقین واعتماد ہوتو وہ رات کے آخری حصے میں وتر ادا کرلے، رات کے آخری حصے میں قراءت قرآن کے وقت فرشتے حاضر ہوتے ہیں اور یہ افضل ہے۔"[3] وتر کم ازکم ایک رکعت ہے اس بارے میں متعدداحادیث بھی ہیں اور تقریباً دس صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کا ثبوت ملتا ہے لیکن افضل اور احسن یہ ہے کہ اس سے پہلے جفت رکعات ادا کی جائیں۔ نماز وتر ادا کرنے والا زیادہ سے زیادہ گیارہ یا تیرہ رکعات دو، دو کر کے ادا کرے، پھر آخر میں ایک رکعت [1] ۔سنن ابی داود الوتر باب فیمن لم یوتر حدیث 1419۔ومسند احمد2/443۔ [2] ۔صحیح البخاری الوتر باب ساعات الوتر حدیث 696۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب صلاۃ اللیل وعدد رکعات النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم فی اللیل حدیث 745۔ [3] ۔صحیح مسلم صلاۃ المسافرین باب من خاف ان لا یقوم من اخر اللیل فلیوتراولہ حدیث 755۔